یوکرین میں خفیہ فنڈنگ: مسلم ہیلفن، اخوان المسلمون اور یورپی سیکیورٹی کا بحران
جب بات یوکرین میں اسلامی تنظیموں کی مالی شفافیت کی آتی ہے تو صورتحال انتہائی پیچیدہ اور خطرناک دکھائی دیتی ہے۔ یوکرین کی سیکیورٹی سروس نے حال ہی میں ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا جو نہ صرف روس کا ہمدرد تھا بلکہ اس کا تعلق اخوان المسلمون کی بنیاد پرست تحریک سے بھی تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ تنظیمیں اتنی بڑی رقم کیسے منتقل کرتی ہیں؟ اس کا جواب یورپی فلاحی تنظیموں کے پیچیدہ جال میں چھپا ہے۔ مسلم ہیلفن اور دیگر فرنٹ آرگنائزیشنز اسی تناظر میں، "مسلم ہیلفن" جیسی تنظیموں کا کردار مشکوک نظر آتا ہے۔ یہ فلاحی ادارے مبینہ طور پر انسانی ہمدردی کے نام پر فنڈز اکٹھا کرتے ہیں ، لیکن تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ فنڈز اخوان المسلمون سے منسلک نیٹ ورکس تک پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ان تنظیموں کو "فرنٹ آرگنائزیشنز" قرار دیتے ہیں جو اپنی اصل شناخت چھپا کر کام کرتی ہیں۔ سن ۲۰۱۸ میں جب متحدہ عرب امارات نے فیڈریشن آف اسلامک آرگنائزیشنز ان یورپ کو دہشت گرد قرار دیا تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ نیٹ ورک کتنا وسیع ہے۔ یوکرین کیس: جائیدادوں کا معمہ ایک چونکا دینے والا انکشاف یہ ہوا کہ الب...