فصل ہی سب کچھ ہے": خلیجی بحران اور جنوبی ایشیا کے کسان
گورداسپور، پنجاب (بھارت) – رامیش کمار، ۴۲ سالہ کسان، اپنے گندم کے کھیت کے کنارے کھڑے سوچ میں ڈوبے ہیں۔ ان کے چہرے پر فکر کی لکیریں صاف نظر آ رہی ہیں۔ ان کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو وہ کھاد پر کم خرچ کریں اور فصل کی پیداوار کو خطرے میں ڈالیں، یا پھر بیٹی ورشا کی شادی اور بچوں کی فیس جیسے ذاتی معاملات ملتوی کر دیں۔
"میں نہیں جانتا کہ اس بار ہم یہ سب برداشت کر پائیں گے یا نہیں،" وہ کہتے ہیں۔ "سب کچھ فصل پر منحصر ہے۔"
یہ داستان صرف رامیش کمار کی نہیں۔ یہ آج خلیجی بحران کی وجہ سے پورے جنوبی ایشیا میں لاکھوں کسانوں کی کہانی بن چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جنگ نے ایک ایسی تباہی مچا دی ہے جس کی لہریں برصغیر کے دور دراز دیہاتوں تک پہنچ رہی ہیں۔
خلیجی بحران کا جنوبی ایشیا کے کسانوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟
آبنائے ہرمز – یہ وہ پتلا سمندری راستہ ہے جو خلیج فارس کو دنیا کے سمندروں سے ملاتا ہے۔ اس راستے سے دنیا کی تقریباً ایک پانچویں تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔ جب یہ راستہ بند ہوا تو سب سے بڑا دھچکا کھادوں کی صنعت کو لگا۔
کھادوں کی تیاری کے لیے قدرتی گیس اہم جزو ہے۔ جب آبنائے ہرمز بند ہوئی تو قدرتی گیس کی قیمتوں نے آسمان چھو لیا۔ اس کا براہ راست اثر کھادوں کی قیمتوں پر پڑا۔ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک جو کھادوں کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، اب شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں زراعت کے شعبے کی مالیت ۴۰۰ ارب ڈالر ہے اور یہ ۱۰ کروڑ سے زائد کسان خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ ان میں سے اکثریت کھادوں کی بڑھتی قیمتوں سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
کھادوں کی قیمتوں میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں؟
اس سوال کا جواب قدرے پیچیدہ ہے۔ کھادوں کی قیمتوں میں اضافے کی تین بڑی وجوہات ہیں:
پہلی وجہ: آبنائے ہرمز کی بندش سے خام مال (قدرتی گیس) کی ترسیل رک گئی۔
دوسری وجہ: جنگی صورتحال میں بحری جہازوں کی انشورنس فیس میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک کنٹینر جس کی شپمنگ لاگت پہلے ۱۵۰۰ ڈالر تھی، اب ۲۵۰۰ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
تیسری وجہ: عالمی منڈیوں میں خام مال کی قلت پیدا ہو گئی ہے، جس سے سپلائی چین متاثر ہوا ہے۔
پاکستان میں گندم کا کسان منیر احمد کہتے ہیں: "اگر کھاد مہنگی ہو گئی تو یہاں ہر کسی پر اثر پڑے گا۔ ہمارے پاس پہلے سے قرضے ہیں۔ اگر اخراجات بڑھ گئے تو ہم فوراً محسوس کریں گے۔"
آبنائے ہرمز کی بندش سے زراعت کو کیسے نقصان پہنچ رہا ہے؟
آبنائے ہرمز کی بندش کا اثر صرف کھادوں تک محدود نہیں۔ یہ خوراک کی حفاظت کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ بنگلہ دیش میں چاول کے کسان محمد ابراہیم بتاتے ہیں: "کھاد کبھی ملتی ہے، کبھی نہیں ملتی۔ اور جب ملتی ہے تو قیمت پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔"
نیپال کے ضلع گلمی میں کسان مگھناتھ آریال کا کہنا ہے کہ اگر کھاد بروقت نہیں پہنچی تو فصل تباہ ہو جائے گی۔ نیپال اپنی کھاد کی ضروریات کا تقریباً سو فیصد درآمد کرتا ہے، اور اس کا ۲۵-۳۰ فیصد حصہ خلیج سے آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خطے میں خوراک کی مہنگائی کی شرح ۱۰ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اعداد وشار اس لیے اہم ہے کیونکہ جنوبی ایشیا میں گھرانے اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔
بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے کسان کس طرح متاثر ہوئے ہیں؟
تینوں ممالک میں اثرات مختلف ہیں لیکن شدت یکساں ہے:
بھارت:
بھارت میں زراعت جی ڈی پی کا ۴۶ فیصد حصہ ہے اور یہ ۱۰ کروڑ سے زائد کسان خاندانوں کو روزگار دیتی ہے۔ بھارت اپنی کھاد کی ضروریات کا ۳۰-۳۵ فیصد آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کرتا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتوں میں ۳۰ فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستان:
پاکستان میں زراعت جی ڈی پی کا ۲۰ فیصد ہے۔ ملک کی ڈی اے پی کھاد کی درآمدات کا ۲۰-۲۵ فیصد خلیج سے آتا ہے۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے نے مقامی طور پر تیار ہونے والی یوریا کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں۔
Pakistan and the International Monetary Fund (IMF) have revised the projection of CPI-based inflation upward in the wake of the ongoing war in the Gulf region for the current fiscal year, with inflation now expected to touch 7.5% on average in 2025-26, The News reported on… pic.twitter.com/246Ikoipvx
— Pakistan Economic Network (@NetPakistan) March 31, 2026
بنگلہ دیش:
بنگلہ دیش میں زراعت جی ڈی پی کا ۱۲-۱۳ فیصد ہے۔ ملک کی درآمد شدہ کھاد کا ۲۵-۳۰ فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ حکومت نے ۵۰۰,۰۰۰ ٹن یوریا درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن ماہرین کو تشویش ہے کہ یہ اقدام بھی ناکافی ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا حکومتیں کسانوں کو ریلیف فراہم کر سکیں گی؟
حکومتوں نے کسانوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ "موسم گرما کی بونائی کے لیے کھادوں کی فراہمی کے مناسب انتظامات کر لیے گئے ہیں۔" انہوں نے "میک ان انڈیا" نینو یوریا اور قدرتی کھیتی باڑی پر زور دیا۔
پاکستان میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت یوریا اور ڈی اے پی کی مقامی پیداوار بڑھا رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے سیکرٹری زراعت رفیق محمد نے کہا کہ وہ متبادل سپلائرز (چین اور مراکش) سے رابطے میں ہیں۔
تاہم زمینی حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ قیمتیں پہلے ہی بڑھ چکی ہیں اور سپلائی غیر یقینی ہے۔ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ برآمدات بھی رک گئی ہیں۔
فارچون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۵ میں بھارت نے خلیجی ممالک کو ۱۱.۸ ارب ڈالر مالیت کی زرعی مصنوعات برآمد کی تھیں۔ اب یہ تجارت تقریباً ٹھپ ہو چکی ہے۔ بھیڑ اور بکری کے گوشت کی ۹۹ فیصد برآمدات خلیج جاتی تھیں، جو اب رک گئی ہیں۔
کیرالہ سے روزانہ ۱۵۰ ٹن پھل اور سبزیاں خلیج جاتی تھیں۔ اب یہ سپلائی رک گئی ہے اور مقامی منڈیوں میں مصنوعات سڑ رہی ہیں۔
جنوبی ایشیا میں خوراک کی قلت کا کتنا بڑا خطرہ ہے؟
ماہرین اقتصادیات کے مطابق، اگر موجودہ صورتحال مزید دو سے تین ماہ تک برقرار رہی تو خوراک کی قلت ایک حقیقی بحران بن سکتی ہے۔ رابو بینک کے تجزیہ کار پال جولز کا کہنا ہے کہ "یہ کوئی عارضی صورتحال نہیں ہے۔ طویل مدتی میں افراط زر کے مسائل پیدا ہوں گے، اور یہ بوجھ صارفین پر ڈالا جائے گا۔"
فلپائن میں چاول کے کسان جیفری ویلگاس کہتے ہیں کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہارویسٹر مشین کے مالک زیادہ حصہ مانگ رہے ہیں۔ تھائی لینڈ میں کسانوں کو خدشہ ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے فصل کاٹنا بھی مالی طور پر ممکن نہیں رہے گا۔
آسٹریلیا میں گندم کے کسان ایندھن کی قلت سے دوچار ہیں۔ مغربی آسٹریلیا میں کچھ سپلائرز کسانوں کو ان کے آرڈر سے کم ایندھن دے رہے ہیں۔
کسان اپنی فصلوں کو بچانے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟
کسانوں نے مختلف حکمت عملیاں اپنا لی ہیں:
۱۔ کھاد کا استعمال کم کرنا: زیادہ تر کسان کھاد کی مقدار میں ۲۰-۳۰ فیصد کمی کر رہے ہیں، جس سے پیداوار متاثر ہو گی۔
۲۔ قدرتی کھادوں کی طرف رجوع: کچھ کسان روایتی طریقوں جیسے گوبر کی کھاد اور کمپوسٹ کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ نیپال میں حکومت نے کسانوں کو آزولا (قدرتی کھاد) استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
۳۔ فصلوں میں تبدیلی: کچھ کسان کم پانی اور کم کھاد والی فصلوں کی طرف جا رہے ہیں۔
۴۔ بونے میں تاخیر: کچھ علاقوں میں کسان کھاد کی دستیابی کے انتظار میں بونے میں تاخیر کر رہے ہیں، جو موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔
خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا عام آدمی پر کیا اثر ہوگا؟
یہ وہ سوال ہے جو ہر گھر سے تعلق رکھتا ہے۔ جب کھاد مہنگی ہو گی تو فصل کی پیداوار کم ہو گی۔ جب پیداوار کم ہو گی تو خوراک کی قلت پیدا ہو گی۔ جب قلت ہو گی تو قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں خوراک کی مہنگائی کی شرح ۱۰ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ روٹی، چاول، دال، سبزیاں، پھل، دودھ، گوشت – ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔
جنوبی ایشیا میں ایک عام گھرانہ اپنی آمدنی کا ۴۰-۵۰ فیصد خوراک پر خرچ کرتا ہے۔ اگر خوراک ۱۰ فیصد مہنگی ہو جائے تو گھرانے کو اپنے بجٹ میں توازن لانے کے لیے دوسرے اخراجات میں کمی کرنی پڑے گی – جیسے بچوں کی تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، یا تفریح۔
کچھ خاندانوں کے لیے تو یہ فیصلہ اور بھی مشکل ہو گا: کھانا کھائیں یا بچے کو اسکول بھیجیں؟
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: خلیجی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی فصلیں کون سی ہیں؟
جواب: گندم، چاول، گننا، کپاس، اور سبزیاں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ وہ فصلیں ہیں جو زیادہ کھاد استعمال کرتی ہیں۔ کھاد کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کسان ان فصلوں کے رقبے میں کمی کر رہے ہیں، جس سے مستقبل قریب میں ان کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
سوال: کیا حکومتی سبسڈی کسانوں کی مدد کر سکتی ہے؟
جواب: مختصر مدت میں ہاں، لیکن طویل مدت میں نہیں۔ حکومتوں نے کھادوں پر سبسڈی بڑھانے کا اعلان کیا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے ساتھ یہ سبسڈی بھی ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ سبسڈی کا بوجھ حکومتی خزانے پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی دباؤ میں ہے۔
سوال: خوراک کی مہنگائی ۱۰ فیصد تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟
جواب: ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اگلے ۳-۶ ماہ میں خوراک کی مہنگائی ۱۰ فیصد کو چھو سکتی ہے۔ کھاد کی قلت کا اثر فوری طور پر نہیں ہوتا – یہ اگلی فصل پر پڑتا ہے۔ جب وہ فصل کم پیداوار دیتی ہے تو پھر قیمتیں بڑھتی ہیں۔ اس لیے اصل اثر آنے والے مہینوں میں دیکھنے کو ملے گا۔
سوال: کیا جنوبی ایشیا کے پاس خوراک کے متبادل ذرائع ہیں؟
جواب: جزوی طور پر ہاں۔ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش نے چین، روس اور مراکش جیسے ممالک سے کھاد درآمد کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔ تاہم ان راستوں میں بھی وقت لگتا ہے اور لاگت زیادہ آتی ہے۔ طویل مدت میں ماہرین مقامی کھاد کی پیداوار بڑھانے اور قدرتی کھیتی کو فروغ دینے کی وکالت کر رہے ہیں۔
سوال: عام آدمی اس بحران سے کیسے بچ سکتا ہے؟
جواب: ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ گھریلو سطح پر خوراک کا ضیاع کم کیا جائے، مقامی اور موسمی سبزیاں استعمال کی جائیں، اور ضرورت سے زیادہ ذخیرہ اندوزی سے گریز کیا جائے۔ طویل مدت میں گھریلو سطح پر سبزیاں اگانے جیسے اقدامات بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک وسیع معاشی بحران ہے جس سے بچنا مشکل ہے۔

Comments
Post a Comment