یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم
یونان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستانی شہریوں کو جعلی ویزا اور رہائشی کارڈ فراہم کرنے والے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کا پردہ چاک کر دیا گیا ہے۔ یونانی پولیس اور پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے الگ الگ کارروائیوں میں درجنوں ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور لاکھوں یورو مالیت کی جائیداد ضبط کی ہے۔ یہ یونان میں پاکستانیوں کے جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم محض ایک کرائم اسٹوری نہیں بلکہ انسانی المیے کی داستان ہے جس میں غریب پاکستانی شہری اپنی جیبیں کٹواتے ہوئے یورپ کی نامعلوم منزلوں کو جا پہنچتے ہیں۔
یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی کیوں ہو رہی ہے؟
یونان، جو یورپی یونین کی جنوبی سرحد کا دروازہ ہے، گزشتہ برسوں سے غیر قانونی امیگریشن کے بحران سے دوچار ہے۔ ۲۰۲۶ء کے آغاز سے ہی یونانی حکومت نے اپنی پالیسیاں سخت کر دی ہیں۔ مئی ۲۰۲۶ء میں وزارت امیگریشن نے اعلان کیا کہ اب تک ۱,۵۴,۱۰۲ غیر قانونی تارکینِ وطن کو یونان کی سرحدوں میں داخل ہونے سے روکا جا چکا ہے۔ اس سخت رویے کے تحت خاص طور پر ان نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مشرقی ممالک بالخصوص پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے جعلی دستاویزات کے ذریعے افراد کو اسمگل کرتے ہیں۔
پاکستانی شہری جعلی یونانی ویزا کے جال میں کیسے پھنستے ہیں؟
یہ سلسلہ پاکستان کے اندر ہی شروع ہوتا ہے۔ ایجنٹ لاہور، کراچی، گجرات اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں بیٹھ کر لوگوں کو یورپ میں بہتر مستقبل کے خواب دکھاتے ہیں۔ ایک حالیہ مقدمے میں، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو مسافروں کو یونان جانے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا۔ ان کے پاس سے گجرات کے ایک ایجنٹ "میان" کی جانب سے جاری کردہ جعلی یونانی رہائشی درخواستیں برآمد ہوئیں، جس کے عوض انہوں نے ۱,۰۰۰ یورو فی شخص ادا کیے تھے ۔ جب ان سے یونان میں ملازمت، تنخواہ یا رہائش کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
A Pakistani bought a fake bride, to be able to get a Visa to stay in the uk and literally thought it was the same as a real Cousin Wife, hence he decided He’d rape her as and when He pleasedAzam Kham. Pakistan Shopkeeper, illegal immigrant and RaperImrich Bodor Kidnapped… pic.twitter.com/j7OWGWcvjr— Deport Foreign Criminals (@peterstopcrime) March 28, 2026
یونان میں انسانی سمگلنگ نیٹ ورک کیسے کام کرتا ہے؟
یہ نیٹ ورک انتہائی منظم طریقے سے کام کرتا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں کریٹ، تھیبیز اور ایتھنز میں کی گئی مشترکہ کارروائی میں ۲۱ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں ۱۶ یونانی اور ۵ پاکستانی شامل تھے۔ اس گروہ کا سرغنہ ایک ۵۱ سالہ شخص تھا جس کی بیوی ہیراکلیون میں سٹیزن سروس سنٹر چلاتی تھی۔ یہ نیٹ ورک پاکستانیوں کو ۱۰,۰۰۰ یورو فی شخص کے عوض "کال ان" ورک ویزا فراہم کرتا تھا ۔ یہ رقم اکثر مقروض ہو کر ادا کی جاتی تھی، جس کے بعد مہاجرین کو ماہانہ ۱,۰۰۰ یورو ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
کریٹ کی کارروائی میں کتنے پاکستانی گرفتار ہوئے؟
کریٹ کی اس کارروائی میں براہ راست ۵ پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، تاہم اس نیٹ ورک کا شکار ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ پولیس نے اس دوران ۲ لاکھ یورو سے زائد نقدی اور متعدد جعلی دستاویزات ضبط کیں ۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہ گروہ جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس بھی تیار کرتا تھا، جس میں ایک ہی ڈاکٹر کے دستخط کے تحت ۲۶ مختلف پاکستانی شہریوں کے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس بنائے گئے تھے، جبکہ ان افراد نے حلفیہ بیان دیا کہ انہوں نے کبھی اس ہسپتال کا رخ نہیں کیا۔
پاکستان میں ایف آئی اے نے جعلی یونانی دستاویزات کے خلاف کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟
پاکستان میں ایف آئی اے نے بھی یہ کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ سیالکوٹ ایئرپورٹ پر دو مسافروں کو باکو سے واپسی پر حراست میں لیا گیا جب ان کے پاس سے یونان اور پاکستان کے جعلی اسٹیمپ اور یونانی رہائشی کارڈ ملے ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایجنٹ ضیا سمیع کو ۲۰ لاکھ روپے ادا کیے تھے جو انہیں باکو لے گیا اور وہاں پر جعلی دستاویزات تیار کر کے اٹلی بھیجنے کی کوشش کی۔ انٹرویو کے دوران مسافروں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ یونان پہنچ کر سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتے تھے، جس کا ذکر ان کی ویزا درخواستوں میں کہیں موجود نہیں تھا۔
کیا آپ یونانی ویزا کے نام پر ٹھگے جا رہے ہیں؟ بروقت احتیاط ہی بچا سکتی ہے
یہ تمام واقعات ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: یورپ کا خواب دکھانے والے ایجنٹ دراصل لوگوں کی جیبیں صاف کر رہے ہیں۔ یونان میں پکڑے جانے والے پاکستانیوں پر نہ صرف ڈی پورٹیشن کی کارروائی ہوتی ہے بلکہ انہیں یورپی یونین میں داخلے پر طویل پابندی بھی لگ جاتی ہے۔ ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ شہری صرف لائسنس یافتہ ٹریول ایجنٹس سے رجوع کریں اور ویزا کی کوئی بھی دستاویز متعلقہ سفارت خانے سے تصدیق کرائیں۔
FAQs اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی صرف جعلی ویزوں تک محدود ہے؟
جواب: نہیں، یونانی حکومت نے غیر قانونی مساجد اور بغیر لائسنس کے چلنے والی جگہوں کے خلاف بھی کارروائی تیز کر دی ہے۔ تاہم بنیادی توجہ انسانی سمگلنگ نیٹ ورکس کو ختم کرنے پر ہے جو جعلی ویزا اور رہائشی دستاویزات فراہم کرتے ہیں۔
سوال: پاکستانی شہری جعلی یونانی ویزا کے جال میں کیسے پھنستے ہیں؟
جواب: پاکستان میں بیٹھے ایجنٹ لاہور، کراچی اور گجرات میں لوگوں کو ۱۰,۰۰۰ سے ۲۰,۰۰۰ ڈالر میں یونان پہنچانے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ وہ جعلی ورک کنٹریکٹس اور میڈیکل سرٹیفکیٹس تیار کرتے ہیں۔ جب یہ افراد یونان پہنچتے ہیں تو انہیں قرض میں دھکیل دیا جاتا ہے اور ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں۔
سوال: یونان میں پکڑے جانے والے پاکستانیوں پر کیا قانونی اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
جواب: یونانی قانون کے تحت جعلی دستاویزات کے استعمال پر گرفتار افراد کو قید اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد انہیں پاکستان ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے اور ان پر شینگن ویزا پر طویل پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔
سوال: جعلی یونانی ویزا کیسز میں ملوث ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کیوں ضروری ہے؟
جواب: یہ ایجنٹ نہ صرف لوٹ مار کرتے ہیں بلکہ غریب افراد کو یورپ کے خطرناک راستوں پر دھکیل کر ان کی جان کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ مزید برآں، یہ نیٹ ورک پاکستان اور یونان دونوں ممالک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایف آئی اے اور یونانی پولیس کی مشترکہ کارروائیاں ان کے خلاف واحد مؤثر ہتھیار ہیں۔

Comments
Post a Comment