اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی بھارت کو للکار: افغانستان سے دہشت گردی کو سپانسر کرنا بند کرو

نیویارک میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والی بحث تلخ حقیقتوں سے بھرپور رہی، جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان اقوام متحدہ میں افغانستان کے مسئلے پر ایسا تبادلہ خیال ہوا جس نے ایک بار پھر دونوں ممالک کی مخاصمت کو عالمی فورم پر بے نقاب کر دیا۔ بھارتی مندوب کی جانب سے پاکستانی فضائی کارروائیوں پر اٹھائے گئے سوالات کا پاکستانی سفیر نے ایسے جواب دیا کہ نہ صرف الزامات کو مسترد کیا بلکہ بھارت پر ہی دہشت گردی کی سرپرستی کا سنگین الزام لگا دیا۔


پس منظر: سلامتی کونسل میں گرما گرمی کیوں بڑھی؟

یہ تنازع اس وقت عروج پر پہنچا جب بھارت کے مستقل مندوب ہریش پروتھنین نے پاکستان پر افغانستان میں فضائی حملے کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین اور افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ بھارتی مندوب کا کہنا تھا کہ "رمضان کے مقدس مہینے میں بے گناہ شہریوں پر فضائی حملے کرنا اور ۱۸۵ افراد کو ہلاک کرنا، جن میں 55 فیصد خواتین اور بچے ہیں، منافقت کے سوا کچھ نہیں" ۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان کو تجارتی راستوں سے محروم کر کے ’ٹریڈ اینڈ ٹرانزٹ ٹیررازم‘ کر رہا ہے۔


پاکستان کا جواب: بھارت پر سنگین الزامات

بھارتی الزامات کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بھارت کی تقریر میں کوئی حیرانی کی بات نہیں، کیونکہ اس کی پوری افغان پالیسی کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مندوب نے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کا ذکر تک نہیں کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت خود اس صورتحال کا ذمہ دار ہے ۔

سفیر عاصم افتخار نے یہاں تک کہہ دیا کہ "بھارت کو افغانستان میں دہشت گردی کے کاروبار میں ہونے والے نقصان کا درد ہے، جسے پاکستان کی مؤثر کارروائیوں نے ختم کیا ہے" ۔ انہوں نے بھارت کو بین الاقوامی قوانین کا "مسلسل خلاف ورزی کرنے والا" قرار دیتے ہوئے کشمیر، پانی کی بندش اور اقلیتوں پر مظالم کا معاملہ بھی اٹھایا ۔


افغان مندوب کا کردار اور اس کی حقیقت

بحث میں افغانستان کے نام نہاد مندوب ناصر احمد فیق نے بھی شرکت کی، تاہم پاکستانی سفیر نے ان کی تقریر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کی نمائندگی نہیں کرتے اور نیویارک میں بیٹھ کر زمینی حقائق سے کٹ چکے ہیں ۔ پاکستان نے نشاندہی کی کہ فیق نے صرف پاکستان پر تنقید کی لیکن افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گرد حملوں پر ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔


عالمی اثرات اور دیگر ممالک کا ردعمل

اس موقع پر چین کے فو کانگ نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں ۔ روس اور برطانیہ نے بھی افغانستان میں خواتین کے حقوق اور انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ۔

یہ پورا تنازع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان صرف ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے صف آراء ہیں۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ وہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا، جبکہ بھارت پر زور دیا کہ وہ اس کاروبار سے باز آئے ۔


FAQs

سوال: اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت میں تلخ کلامی کی وجہ کیا تھی؟

جواب: بھارت نے پاکستان پر افغانستان میں فضائی حملے کرنے کا الزام لگایا، جس پر پاکستانی مندوب نے جوابی کارروائی میں بھارت پر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا الزام لگایا۔

سوال: پاکستان نے بھارت پر کون سی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا الزام لگایا؟

جواب: پاکستانی سفیر عاصم افتخار نے الزام لگایا کہ بھارت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی تنظیموں کو افغانستان سے مالی اور اسلحے کی معاونت فراہم کر رہا ہے ۔

سوال: افغانستان کے مندوب ناصر احمد فیق کو پاکستان نے کیوں مسترد کیا؟

جواب: پاکستان کا موقف ہے کہ ناصر احمد فیق طالبان حکومت کے نمائندہ نہیں ہیں اور اقوام متحدہ میں ان کی حیثیت صرف نام کی ہے۔ انہیں زمینی حقائق کا علم نہیں اور وہ اپنا ذاتی ایجنڈا چلا رہے ہیں ۔

سوال: بھارت نے پاکستانی فضائی حملوں میں کتنے شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا؟

جواب: بھارتی مندوب کے مطابق ٦ مارچ تک پاکستانی حملوں میں ۱۸۵ شہری ہلاک ہوئے، جن میں 55 فیصد خواتین اور بچے شامل تھے ۔

سوال: چین نے اس تنازع پر کیا مؤقف اختیار کیا؟

جواب: چین نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کریں۔ چین نے ثالثی کی پیشکش بھی کی ۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم