اسلام آباد میں سفارتی ہلچل: ایرانی وزیرخارجہ کی آمد اور امریکی وفد کا انتظار


 

جمعہ کی شب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی تھا۔ قریباً اسی اثنا میں واشنگٹن سے خبر آئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاص ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ہفتے کے روز پاکستان کا رخ کریں گے ۔ یوں امریکی ایرانی مذاکرات ایک بار پھر پاکستان کی سرزمین پر ہونے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل دارالحکومت میں امریکی سلامتی اور رابطہ ٹیمیں پہنچ چکی ہیں ۔ واضح رہے کہ اپریل کے اوائل میں پاکستان ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی پہلی نشست ہوئی تھی، جس کے بعد دونوں فریق جنگ بندی پر راضی ہوئے تھے .



ایرانی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد کا مقصد کیا ہے؟

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ عراقچی کا دورہ ایران کے موقف کو پاکستانی حکام تک پہنچانے کے لیے ہے، نہ کہ امریکہ سے مذاکرات کرنے ۔ تاہم امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ وٹکوف اور کشنر "براہِ راست مذاکرات" کے لیے جا رہے ہیں ۔

یہ تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان امریکی ایرانی مذاکرات کو دوبارہ ٹریک پر لانے کے لیے کتنی مشکل گھڑی سے گزر رہا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان اصل تنازع کیا ہے؟

اس کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں ایران کا ایٹمی پروگرام اور اس کے خلاف امریکی پابندیاں ہیں۔ امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جبکہ ایران نے انتقاماً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے ۔

ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک ناکہ بندی نہیں اٹھائی جاتی، وہ مذاکرات کی میز پر واپس نہیں بیٹھے گا ۔

امریکی ایرانی مذاکرات میں کون رکی ہوئی شرائط ہیں؟

پہلے دور کے برعکس اب صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ ایران کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، جبکہ ایران اپنی شرائط پر ڈٹا ہوا ہے ۔

پاکستان اس پیچیدہ مساوات کو سلجھانے کے لیے پوری کوشش کر رہا ہے۔


پاکستان کی ثالثی میں امریکی ایرانی مذاکرات کی کیا اہمیت ہے؟

یہ پہلا موقع ہے جب ۱۹۷۹ کے انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ افسران ایک غیر جانبدار ملک میں بیٹھے ہیں ۔

سابق سفیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کو اعتماد سازی کے اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے ناکہ بندی میں نرمی اور آبنائے ہرمز کو کھولنا .

FAQs

سوال: کیا ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی ایلچیوں سے براہ راست ملاقات ہوگی؟
فی الحال ایران نے براہِ راست مذاکرات سے انکار کیا ہے، تاہم امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں۔ امکان ہے کہ پاکستانی حکام دونوں میں شٹل ڈپلومیسی کریں .

سوال: پاکستان اس تنازع میں ثالث کیوں ہے؟
پاکستان کے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ پاکستانی فوج کی قیادت نے امریکہ کو قائل کیا کہ جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں، اور ایران کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے .

سوال: پہلے دور کے مذاکرات میں کیا طے پایا تھا؟
پہلے دور میں ۱۴ روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ تاہم جوہری پروگرام اور پابندیوں پر کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا .

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم