ایک اور کامیاب آپریشن: خیبر میں بائیس دہشتگرد موت کے گھاٹ اُتار دیئے گئے


پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بائیس بھارت حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک کر دیئے گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اکیس اپریل کو خفیہ اطلاع پر کی جانے والی اس کارروائی میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا تاہم دہشتگردوں کی بزدلانہ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک دس سالہ معصوم بچہ بھی شہید ہو گیا ۔


آپریشن خیبر میں کیسے ہلاک ہوئے بائیس دہشتگرد؟

یہ آپریشن اکیس اپریل کو ضلع خیبر کے علاقے میں دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر شروع کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مل کر یہ کارروائی کی جس کے دوران دہشتگردوں نے گھبرا کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بائیس دہشتگرد ہلاک ہوئے جن کا تعلق بھارت حمایت یافتہ دہشتگرد گروپ "فتنہ الخوارج" سے بتایا جاتا ہے۔

فتنہ الخوارج کیا ہے اور بھارت کا کردار؟

پاکستان کی ریاست دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے "فتنہ الخوارج" کی اصطلاح استعمال کرتی ہے ۔ یہ وہی گروپ ہے جس نے پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے واضح طور پر مارے جانے والے دہشتگردوں کو "بھارت حمایت یافتہ" قرار دیا ہے، جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے ان دہشتگرد گروپوں کو سپورٹ کر رہی ہیں ۔


کیا پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے؟

گزشتہ چند برسوں کے دوران خاص طور پر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسلام آباد میں قائم ادارے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق دو ہزار پچیس میں پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں چونتیس فیصد جبکہ اموات میں اکیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ صوبہ خیبر پختونخواہ خاص طور پر زیادہ متاثر رہا جہاں دو ہزار چوبیس کے مقابلے میں دو ہزار پچیس میں اموات ایک ہزار چھ سو بیس سے بڑھ کر دو ہزار تین سو اکتیس ہو گئیں ۔


صدر اور وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو کیوں سراہا؟

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو سراہا ہے ۔ دونوں رہنماؤں نے دس سالہ معصوم بچے کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ جہاں پاکستان عالمی امن کے لیے کوشاں ہے وہیں دہشتگرد ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔


آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا ہے؟

آپریشن عزم استحکام کو جون دو ہزار چوبیس میں وفاقی ایکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان نے منظور کیا تھا ۔ اس آپریشن کا مقصد پاکستان سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ انسداد دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی اور "بیرونی سپانسر شدہ دہشتگردی" کے خاتمے تک اس میں کوئی کمی نہیں لائی جائے گی ۔


دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا مستقبل

خیبر کا یہ کامیاب آپریشن ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہیں۔ اگرچہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے لیکن سیکیورٹی فورز کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ آپریشن عزم استحکام کے تحت یہ کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور پاکستان کی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے تک کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: خیبر میں کتنے دہشتگرد مارے گئے؟

جواب: آئی ایس پی آر کے مطابق اکیس اپریل کو ضلع خیبر میں کی جانے والی مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں کل بائیس دہشتگرد ہلاک ہوئے ۔

سوال: خیبر آپریشن میں دس سالہ بچہ شہید کیوں ہوا؟

جواب: دہشتگردوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے گھبرا کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایک معصوم دس سالہ بچہ شہید ہو گیا ۔

سوال: فتنہ الخوارج سے کیا مراد ہے؟

جواب: فتنہ الخوارج ایک اصطلاح ہے جو پاکستان کی ریاست پابند عادی تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک دہشتگرد گروپوں کے لیے استعمال کرتی ہے ۔

سوال: آپریشن عزم استحکام کب شروع ہوا؟

جواب: آپریشن عزم استحکام کو جون 2024 میں وفاقی ایکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان نے منظور کیا تھا ۔

سوال: کیا دہشتگردوں کا تعلق بھارت سے تھا؟

جواب: آئی ایس پی آر کے مطابق مارے جانے والے دہشتگردوں کا تعلق بھارت حمایت یافتہ گروپ فتنہ الخوارج سے تھا اور ان سے بھارتی ساختہ اسلحہ بھی برآمد ہوا ۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم