نوے ملین افراد کی نقل مکانی: کیا یورپ ایران کے پناہ گزینوں کے بحران کے لیے تیار ہے؟



فروری ۲۰۲۶ کے آخر میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملے شروع کیے تو دنیا کی نظریں تہران اور اصفہان پر جم گئیں۔ لیکن ان بمباریوں سے کہیں زیادہ خوفناک منظر نامہ وہ ہے جو یورپ کے لیے ابھر کر سامنے آیا ہے: پناہ گزینوں کا ایک بے مثال بحران۔ برسلز سے برلن تک، ہر دارالحکومت میں یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ایران کی تباہی یورپ کی دہلیز پر پناہ گزینوں کا نیا طوفان لا کر ٹھوکر دے گی؟ 


ایران میں جنگ شروع ہونے کی کیا وجہ ہے؟

اس سوال کا جواب پیچیدہ ہے، لیکن مختصر یہ کہ دسمبر ۲۰۲۵ میں ایران میں معاشی بدحالی اور سیاسی جبر کے خلاف جو احتجاج شروع ہوا تھا، وہ رفتہ رفتہ ایک بڑی تحریک میں بدل گیا ۔ یورپی رہنماؤں نے اس موقع پر تہران کے خلاف اپنی زبان تیز کردی۔ جرمن چانسلر فریدریخ میرز نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے "آخری دن" گنے جا رہے ہیں۔

اس کے بعد یورپی یونین نے ایرانی انقلابی گارڈ کور کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس صورت حال کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہوئے ۲۸ فروری کو تہران پر حملے کر دیے۔ یہ وہی حملے تھے جن کی یورپ نے بظاہر مخالفت تو کی، لیکن عملی طور پر خاموشی اختیار کر لی۔


کیا ایران کی جنگ یورپ میں پناہ گزینوں کا بحران پیدا کر سکتی ہے؟

یہ سوال آج یورپ کی سیاست میں سب سے زیادہ گرما گرم بحث کا موضوع ہے۔ خود یورپی یونین کی پناہ گزین ایجنسی (EUAA) نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ ایران کی غیر مستحکم صورتحال پناہ گزینوں کا "بے مثال بحران" پیدا کر سکتی ہے۔

یہ پیش گوئی محض قیاس پر مبنی نہیں۔ ایران کی کل آبادی تقریباً نوے ملین (۹۰,۰۰۰,۰۰۰) ہے ۔ اگر اس آبادی کا صرف دس فیصد بھی نقل مکانی پر مجبور ہو جائے، تو یہ تعداد نوے لاکھ (۹,۰۰۰,۰۰۰) بنتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر یورپ کی طرف روانہ ہوں، تو یہ منظر عامۃً تاریخ کی سب سے بڑی انسانی تباہیوں میں شمار ہو گا۔


یورپ نے ایران کے ممکنہ پناہ گزینوں کے لیے کیا تیاریاں کر رکھی ہیں؟

یورپی رہنما اس منظر نامے سے بخوبی واقف ہیں۔ برلن، پیرس اور برسلز میں ہنگامی اجلاس ہو رہے ہیں۔ جرمنی خاص طور پر پریشان ہے کیونکہ وہاں پہلے سے تین لاکھ بیس ہزار (۳,۲۰,۰۰۰) ایرانی نژاد افراد مقیم ہیں، اور یہ تعداد یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔

یورپی کمیشن نے صورتحال پر گہری نظر رکھنے اور اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تیاریاں کافی ہیں؟ جرمنی کے وزیر داخلہ نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا ملک ۲۰۱۵ کے پناہ گزین بحران کو دہراتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ اس سال اکیلا جرمنی لاکھوں شامی اور افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر چکا ہے۔


ایران کے پناہ گزین ترکی اور یونان کے راستے یورپ کیسے پہنچیں گے؟

جغرافیائی اعتبار سے، ترکی یورپ کا سب سے بڑا دروازہ ہے۔ ایران سے نکلنے والے پناہ گزینوں کو پہلے ترکی کی سرحد عبور کرنی ہوگی۔ اور پھر وہاں سے یونان یا بلغاریہ کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونا ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ جنگ شروع ہونے کے صرف دو دن بعد، یورپی کمشنر برائے امیگریشن میگنس برونر نے ترکی کے وزیر خارجہ سے فون پر رابطہ کیا۔ ترکی نے یقین دہانی کرائی کہ اس نے ایران کے ساتھ اپنی سرحد سخت کردی ہے اور کسی بھی قسم کے انسانی سیلاب کو روکنے کے لیے تین مختلف منصوبے تیار کر لیے ہیں ۔ تاہم، ترکی کی اپنی حدود میں پہلے سے پچیس لاکھ (۲۵,۰۰,۰۰۰) شامی پناہ گزین موجود ہیں، اور مزید نوے لاکھ افراد کا بوجھ اٹھانا اس کے لیے بھی ناممکن ہوگا۔


کیا یورپ ۲۰۱۵ کی طرح پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو سنبھال سکتا ہے؟

یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ ۲۰۱۵ میں آنے والے پناہ گزینوں نے یورپ کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔ اس بحران نے جرمنی، فرانس اور آسٹریا میں دائیں بازو کی جماعتوں کو زبردست مقبولیت دی۔ اب یہ جماعتیں پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔

اگر ایران سے پناہ گزینوں کی آمد شروع ہوتی ہے تو یورپ دوہرے مسئلے کا شکار ہوگا۔ ایک طرف لاکھوں بے گھر افراد کی انسانی المیہ، دوسری طرف اپنی ہی سرحدوں کے اندر بڑھتی ہوئی دائیں بازو کی سیاست، جو اس بحران کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے پوری طرح تیار بیٹھی ہے۔

یورپ نے اس مرتبہ نیا مائیگریشن پیکٹ بنا رکھا ہے، جو جون ۲۰۲۶ سے نافذ العمل ہوگا ۔ اس پیکٹ میں سرحدوں کو سخت کرنے اور پناہ گزینوں کو یورپ کے اندر تقسیم کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ لیکن اکیڈمیسین ڈاکٹر مہران کامروا کا کہنا ہے کہ یورپ کی پالیسیاں دراصل ایران کو لیبیا، شام یا یمن جیسے بکھرے ہوئے ملک میں تبدیل کرنے کا خطرہ رکھتی ہیں۔ اور اگر ایسا ہوا تو پھر یورپ کا کوئی بھی پیکٹ اس سیلاب کو نہیں روک سکے گا۔


عمومی سوالات (FAQs)

س: کیا اس وقت ایران سے پناہ گزینوں کی آمد یورپ میں شروع ہو چکی ہے؟

ج: ابھی تک ایسا کوئی بڑا سیلاب شروع نہیں ہوا ہے۔ یورپی حکام کے مطابق ابھی سرحدوں پر کوئی خاص دباؤ محسوس نہیں کیا گیا ہے ۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بڑی نقل مکانی میں کبھی کبھی مہینوں یا برسوں لگ جاتے ہیں، جیسا کہ شام کے بحران میں ہوا تھا۔

س: ایران میں کتنے افغان پناہ گزین رہتے ہیں اور ان کا کیا ہوگا؟

ج: ایران خود دنیا کے دوسرے بڑے پناہ گزین میزبان ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں تقریباً پچیس لاکھ (۲۵,۰۰,۰۰۰) افغان مہاجرین موجود ہیں ۔ اگر ایران میں جنگ پھیلتی ہے تو یہ افغان پناہ گزین بھی مجبوراً ترکی اور پھر یورپ کی طرف بھاگ سکتے ہیں۔

س: کیا یورپ ایران کے ساتھ ڈپلومیسی کے ذریعے یہ بحران ٹال سکتا ہے؟

ج: زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ یورپ کا ایران پر کوئی خاص دباؤ نہیں ہے۔ ایران پر پہلے سے پابندیاں عائد ہیں اور یورپ نے ایرانی گارڈ کور کو دہشت گرد قرار دے کر مذاکرات کے راستے بند کر دیے ہیں۔ اب یورپ زیادہ تر ترکی جیسے ممالک پر انحصار کر رہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو اپنی سرحدوں پر ہی روک لیں۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم