تہران کی چالاکیاں اور مغرب کی کمزوریاں — جوہری بحران کا مستقبل

 
ایران کا جوہری پروگرام اور عالمی تحفظات کے موضوع پر ڈونلڈ ٹرمپ کا نقطہ نظر بہت واضح ہے: "ایران پر بھروسہ نہ کرو، صرف تصدیق کرو" ۔ اسی تناظر میں، ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی اپنائی ہے — معاشی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اور فوجی روک تھام ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حکمت عملی ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنے میں کامیاب ہو گی؟

ایران کی دھوکہ دہی کی تاریخ

ایران کا جوہری پروگرام کبھی مکمل طور پر پرامن نہیں رہا۔ ۲۰۰۲ میں ایران کے خفیہ جوہری مقامات کے انکشاف کے بعد سے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بارہا ایران پر خفیہ جوہری سرگرمیوں کے شبہات کا اظہار کیا ہے ۔

گزشتہ برس بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے پہلی بار ۲۰ سالوں میں ایران کو غیر تعاون کرنے والا قرار دیا ۔ ایران نے نہ صرف جوہری مقامات تک رسائی سے انکار کیا بلکہ فوجی مقامات پر معائنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا ۔

چار ممالک (فرانس، جرمنی، برطانیہ، امریکہ) کا مشترکہ موقف ہے: "کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو روکنے اور اپنی قانونی ذمہ داریوں سے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی" ۔

مذاکرات کی کمزوری اور دھوکہ

احمد شرائی کے مطابق، مذاکرات کو کمزوری کی حالت میں کرنا ایک بڑی غلطی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:

"کمزوری کی حالت میں طے پانے والا معاہدہ ایک بڑی جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔"

ایران کے حکمران الفاظ اور نتائج کے درمیان فرق کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے مذمتوں کو نظر انداز کرنا، جمہوری ممالک کے درمیان تقسیم پیدا کرنا، اور سفارت کاری کو طول دیتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنا سیکھ لیا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ شرائی زور دیتے ہیں: "نفاذ ہی اصل معاہدہ ہے" ۔ کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کی خلاف ورزی پر فوری اور مؤثر نتائج مرتب نہ ہوں۔

خلیج سے لے کر بحر اوقیانوس تک

اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو پہلا اور سب سے بڑا نقصان خلیجی ممالک کو ہو گا ۔ کویت کے ہوائی اڈے اور بحرین پر ایران کے حالیہ حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران کس طرح شہری اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے ۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیاں، تیل کی ترسیل میں خلل، اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ — یہ سب ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے ممکنہ نتائج ہیں ۔

اسرائیل کے لیے تو یہ معاملہ زندگی اور موت کا سوال ہے ۔ ایک جوہری ایران کا مطلب ہے اسرائیل کا مکمل خاتمہ — جیسا کہ ایرانی رہنماؤں نے بارہا کہا ہے ۔

متحدہ محاذ کی ضرورت

احمد شرائی کے مطابق، ایران کو شکست دینے کے لیے امریکی قیادت میں ایک متحدہ محاذ کی ضرورت ہے ۔

"ایران کو ہر بار فائدہ ہوتا ہے جب واشنگٹن کے شراکت دار امریکی عزم پر شک کرتے ہیں یا الگ الگ جواب دیتے ہیں۔ جواب اتحاد، قابلِ اعتماد روک تھام، اور علاقائی بلیک میل کو قبول کرنے سے انکار ہونا چاہیے۔"

ایران کے سامنے دو راستے ہونے چاہییں: یا تو جوہری ہتھیار کا راستہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو، یا پھر معاشی، سفارتی اور فوجی نتائج کا سامنا کرو ۔

ایرانی عوام دشمن نہیں ہیں — انہیں ماضی میں بھی دھوکہ دیا گیا ہے اور آج بھی وہ اسی نظام کے یرغمال ہیں ۔
یہ تحریر گیٹ اسٹون انسٹی ٹیوٹ کی شائع کردہ اصل رپورٹ "نو ٹرسٹ، نو الیوژنز، نو نیوکلیئر ایران" سے ماخوذ ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

ایران کا مافیا ریاست کیا ہے؟
یہ ایک اصطلاح ہے جو ایران کے حکمران طبقے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو جبر، دھمکیوں، کرپشن، اور مسلح گروپوں کی حمایت کے ذریعے اپنی بقا کو یقینی بناتا ہے ۔

کیا ٹرمپ کی ایران پالیسی کامیاب ہو رہی ہے؟
ٹرمپ کا طریقہ کار ہے: زیادہ سے زیادہ دباؤ، واضح سرخ لکیر، اور دھوکہ دہی پر سنگین نتائج ۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ پالیسی کامیاب ہو گی یا نہیں۔

ایران کے جوہری مقامات کا معائنہ کیوں روک دیا گیا؟
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق، ایران نے جولائی ۲۰۲۵ میں اسرائیل-امریکہ کے حملوں کے بعد سے جوہری مقامات تک رسائی سے انکار کر دیا ہے اور ابھی تک یہ رسائی بحال نہیں کی ۔

کیا ایران جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے؟
تکنیکی طور پر، ایران کے پاس ۶۰ فیصد افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے جسے ۹۰ فیصد (ہتھیاروں کی سطح) تک بڑھانے میں صرف چند ہفتے لگ سکتے ہیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم