توانائی کی جنگ: ایران-یورپ کشیدگی کے معاشی اثرات
یورپ کے لیے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اب صرف ایک جغرافیائی سیاسی مسئلہ نہیں رہی — یہ براہ راست یورپی گھرانوں کی جیب پر حملہ ہے۔ جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور قطر نے اپنی ایل این جی فیکٹری بند کر دی، تو یورپ میں گیس کی قیمتیں دوگنی ہو گئیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپ اس توانائی بحران سے بچ سکے گا؟
آبنائے ہرمز کی بندش سے کیا ہوا؟
فروری ۲۰۲۶ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا — جہاں سے دنیا کی ۲۰ فیصد ایل این جی گزرتی ہے ۔ سینکڑوں تیل اور گیس ٹینکرز کو راستہ بدلنا پڑا، انشورنس کمپنیوں نے کوریج منسوخ کر دی، اور توانائی کی بڑی کمپنیوں نے پیداوار روک دی ۔
اسی تناظر میں برینٹ کروڈ کی قیمت ۹۴ ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جبکہ کچھ سیشنز میں ۱۰۰ ڈالر کی سطح بھی چھو لی گئی ۔
یورپی صنعتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
یورپ کی دوبارہ صنعتی کاری کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ جرمنی، اٹلی اور نیدرلینڈز کی کیمیکل، سٹیل اور آٹو موبائل صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں ۔ ماہر اقتصادیات برونو کولمینٹ کے مطابق، یورپ اب ۱۹۷۰ کی دہائی کے تیل کے بحران جیسی صورتحال میں ہے جہاں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور معاشی ترقی رک گئی ہے ۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یورپ کو ۲۰۲۶ میں ۰.۲ سے ۰.۴ فیصد معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے جبکہ مہنگائی میں ۰.۵ سے ۱.۵ فیصد اضافہ ہو سکتا ہے ۔
For over 43 years, the Islamic Revolutionary Guard Corps has violated human rights in Iran and carried out terrorist attacks, hostage-taking & offences, including in Europe.The UK must proscribe the IRGC as a terrorist organisation now. #IRGCterrorists. https://t.co/0JcJKloy4g— Tony Blair Institute for Global Change (@InstituteGC) January 17, 2023
یورپی گھرانوں پر کیا بوجھ؟
یورپی گھرانے پہلے ہی مہنگائی سے تنگ آ چکے ہیں — اب اس توانائی بحران نے آگ میں گھی ڈال دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے نقل و حمل مہنگا ہو گیا، بجلی اور حرارتی بلوں میں اضافہ ہوا، اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں ۔
یورپی مرکزی بینک پر بھی دباؤ ہے — اگر وہ شرح سود بڑھاتا ہے تو قرضے مہنگے ہو جائیں گے، اور اگر نہیں بڑھاتا تو مہنگائی قابو سے باہر ہو جائے گی ۔
امریکہ فائدہ میں، یورپ نقصان میں
اس پوری صورتحال میں سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا امریکہ ہے۔ یورپ کو اب قطر کی سستی گیس کی بجائے مہنگی امریکی گیس خریدنی پڑے گی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۶ میں امریکہ یورپ کی ایل این جی درآمدات کا ۶۵ فیصد حصہ فراہم کرے گا ۔
یہی وجہ ہے کہ یورپ کے لیے واحد حل مقامی قابل تجدید توانائی — شمسی اور ہوا — ہے ۔
کیا یورپ بچ سکتا ہے؟
یورپ کے پاس اب دو ہی راستے ہیں — یا تو وہ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کرے ، یا پھر وہ اپنی توانائی کی پالیسی کو یکسر تبدیل کرے۔ درحقیقت، یہ بحران یورپ کے لیے ایک "بیداری کی کال" ہے — جتنی جلدی وہ جیواشم ایندھن سے نکلے گا، اتنا ہی مستقبل میں محفوظ رہے گا ۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپ پر کیا اثر پڑے گا؟
دنیا کی ۲۰ فیصد ایل این جی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ اس کی بندش سے یورپ میں گیس کی قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں اور صنعتی پیداوار متاثر ہو رہی ہے ۔
سٹیگ فلیشن کیا ہے اور یہ یورپ کو کیسے متاثر کرے گا؟
سٹیگ فلیشن مہنگائی اور معاشی جمود کا مجموعہ ہے جہاں قیمتیں بڑھ رہی ہوں لیکن معیشت ترقی نہ کر رہی ہو۔ یورپ اس کی طرف بڑھ رہا ہے جیسے ۱۹۷۰ کی دہائی میں ہوا تھا ۔
کیا ایران نے یورپی شہروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے؟
جی ہاں، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اگر یورپی ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کریں گے تو یورپی شہر ایران کے جوابی حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔
یورپ توانائی بحران سے کیسے بچ سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق یورپ کو قابل تجدید توانائی — شمسی اور ہوا — کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا اور امریکی ایل این جی پر انحصار کم کرنا ہوگا ۔

Comments
Post a Comment