مشرق وسطیٰ کی جنگ: ۱۹ ہزار سے زائد فلائٹس منسوخ، لاکھوں مسافر پھنس گئے


مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں نے خطے کی ہوا بازی کی صنعت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران، امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تنازع نے دنیا کے مصروف ترین فضائی راہداریوں کو بند ہوتے دیکھا ہے۔ ایئرلائنز نے لاکھوں مسافروں کو مختلف ہوائی اڈوں پر پھنسے چھوڑتے ہوئے اپنے نظام الاوقات میں خاطر خواہ تبدیلیاں کی ہیں۔


اتنی بڑی تعداد میں فلائٹس منسوخ ہونے کی کیا وجہ ہے؟

بنیادی وجہ فضا کا جنگی زون بن جانا ہے۔ جیسے ہی ایران کی طرف سے امریکی اور اسرائیلی ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے شروع ہوئے، خلیج کی ریاستوں نے اپنی قومی سلامتی کے پیشِ نظر اپنی فضاؤں کو فوری طور پر بند کر دیا۔ یہ قدم عام طور پر اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب کوئی ملک جنگی کارروائیوں کا حصہ بن رہا ہو یا اسے براہِ راست خطرہ لاحق ہو۔


مشرق وسطیٰ میں فلائٹس منسوخ ہونے کی شرح کتنی ہے؟

ایوی ایشن تجزیہ کار کمپنی سیریم کے مطابق، ۲۸ فروری سے شروع ہونے والے اس تنازع میں اب تک ۱۹,۰۰۰ سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ یہ تعداد خطے میں ہونے والی کل پروازوں کا ۵۵ فیصد بنتی ہے۔

متحدہ عرب امارات (دبئی/ابوظہبی): ۸۱ فیصد فلائٹس منسوخ۔

قطر (دوحہ): ۸۶ فیصد فلائٹس منسوخ۔

بحرین: ۸۹ فیصد فلائٹس منسوخ۔

کویت: ۸۱ فیصد فلائٹس منسوخ۔

ایران اور عراق: ۸۲ سے ۸۴ فیصد فلائٹس منسوخ۔

صرف عمان میں یہ شرح نسبتاً کم (۱۹ فیصد) رہی ہے، جبکہ مصر بھی ۱۷ فیصد منسوخی کے ساتھ اس سے کم متاثر ہوا ہے۔


کیا دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ بند ہے؟

مکمل طور پر نہیں، لیکن یہ لگ بھگ کارگو اور انخلائی پروازوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ امارات اور اتحاد نے اپنی طے شدہ تجارتی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ حکام نے مسافروں کو واضح کیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ پر صرف اس صورت میں جائیں جب انہیں ایئرلائن کی طرف سے تصدیق مل چکی ہو۔ فلائی دبئی نے بھی اپنی بیشتر پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

خلیجی ایئرلائنز نے اپنے فلائٹس کیوں روک دیے؟

یہ فیصلہ محض حفاظتی ہے۔ جب ایران کی طرف سے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ کیا گیا اور دوحہ، بحرین اور کویت پر میزائل داغے گئے، تو ایئرلائنز کے لیے ان علاقوں میں پرواز کرنا خود کشی کے مترادف تھا۔ قطر ائیرویز نے اعلان کیا کہ وہ صرف اس وقت پروازیں بحال کرے گی جب قطری شہری ہوا بازی اتھارٹی فضا کو محفوظ قرار دے گی۔


خطے کی سیاحت اور معیشت کو کتنا نقصان پہنچے گا؟

یہ بحران سیاحت کی صنعت کے لیے ایک تباہی ہے۔ ۲۰۲۵ میں خلیج کی سیاحت کی صنعت کا حجم ۳۶۷ ارب ڈالر تھا۔ اب، دبئی اور ابوظہبی کے لگژری ہوٹلوں نے بکنگ منجمد کر دی ہیں، اور حج اور عمرہ کے سفر بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب خطے کو بین الاقوامی آمد میں ۴۰ فیصد اضافہ دیکھنے کی توقع تھی۔


پاکستانی مسافر خلیج میں پھنس گئے، حکومت کیا کر رہی ہے؟

یہ المیہ پاکستانیوں کے لیے بھی شدید ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے لاکھوں پاکستانی مزدور اور زائرین کا تعلق ہے۔ لاہور اور کراچی سے جدہ اور دبئی جانے والی متعدد پروازیں (سعودیا ایس وی ۷۳۹، ایس وی ۷۰۸) منسوخ ہونے کی وجہ سے بے شمار پاکستانی خاندان ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صورتحال جلد معمول پر آ سکتی ہے؟ ماہرین کے مطابق، جب تک فوجی کارروائیاں جاری ہیں، خلیج کا آسمان بند ہی رہے گا۔ یہ ایک المیہ ہے کہ مشرق وسطیٰ، جو کبھی دنیا کو آپس میں ملانے والا مرکز تھا، آج خود دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ مسافروں کو سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایئرلائنز سے باضابطہ رابطہ رکھیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔


عمومی سوالات

سوال: کیا پاکستان سے دبئی کے لیے کوئی فلائٹ چل رہی ہے؟

فی الحال نہیں۔ ۸۰ فیصد سے زائد فلائٹس منسوخ ہیں۔ صرف چند واپسی یا کارگو فلائٹس چل رہی ہیں، لیکن نئے مسافروں کو سوار نہیں کیا جا رہا۔

سوال: ایئرلائنز نے فلائٹس کیوں منسوخ کی ہیں؟

کیونکہ ایران اور اسرائیل یا امریکہ کے درمیان براہِ راست میزائل حملوں نے خلیج کی فضا کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ہوائی جہاز غلطی سے جنگی علاقے میں جا سکتے تھے۔

سوال: کیا قطر ائیرویز کی پروازیں شروع ہو گئی ہیں؟

نہیں۔ قطر نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر رکھی ہے۔ جب تک قطر سرکار کی طرف سے فضا کو محفوظ قرار نہیں دیا جاتا، کوئی بھی پرواز دوحہ سے نہیں جا سکتی۔

سوال: کیا دبئی ایئرپورٹ پر مسافر پھنسے ہوئے ہیں؟

جی بالکل، لیکن کم تعداد میں کیونکہ زیادہ تر لوگ پہنچ ہی نہیں پائے۔ جو پہنچے تھے، وہ وہیں پڑاؤ ڈالے بیٹھے ہیں۔ حکام نے نئے مسافروں کو ایئرپورٹ آنے سے منع کر دیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم