۳۱ پاکستانی اور ایرانی شہری امریکی حراست سے بازیاب، پاکستان کا سفارتی کامیابی

 
پاکستان نے امریکا کی ضبط کردہ جہازوں سے ۱۱ پاکستانی اور ۲۰ ایرانی شہریوں کی وطن واپسی کرائی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو اعلان کیا کہ یہ کامیابی سنگاپور کے راستے حاصل کی گئی۔ تمام ۳۱ افراد خیریت سے ہیں اور انہیں اسلام آباد پہنچا دیا گیا ہے ۔

یہ سفارتی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکا نے حالیہ ہفتوں میں متعدد ایرانی جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا تھا، جن پر پاکستانی اور ایرانی عملہ موجود تھا ۔

یہ افراد امریکی حراست میں کیسے آئے؟

گزشتہ ماہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کی بندش اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے تناظر میں متعدد ایرانی جہازوں کو روکا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے تھے ۔

انہی جہازوں میں ۱۱ پاکستانی اور ۲۰ ایرانی شہری بطور عملہ موجود تھے۔ انہیں سنگاپور کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لیا گیا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر سفارتی سرگرمیاں تیز کر دیں ۔


اسحاق ڈار نے شہریوں کی واپسی کے لیے کن ممالک سے رابطہ کیا؟

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس مسئلے کے حل کے لیے تین اہم ممالک سے رابطہ کیا۔

پہلا سنگاپور تھا۔ ڈار نے سنگاپور کے وزیرخارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں تعاون کریں ۔

دوسرا ایران تھا۔ ڈار نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے بھی رابطہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ایرانی شہریوں کی واپسی میں مکمل تعاون کرے گا ۔

تیسرا امریکا تھا۔ ڈار نے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو سے بھی ہم آہنگی کی تاکہ حراست میں لیے گئے شہریوں کی رہائی ممکن ہو سکے ۔

سنگاپور اور تھائی لینڈ کا کردار

اس سفارتی کامیابی میں سنگاپور کا کردار کلیدی تھا۔ وزیراعظم سنگاپور اور وزیرخارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے پاکستان کی درخواست پر فوری تعاون کیا۔ انہوں نے شہریوں کو سنگاپور سے تھائی لینڈ منتقل کرنے کا انتظام کیا ۔

تھائی لینڈ نے بنکاک کے راستے شہریوں کے سفر کی سہولت فراہم کی۔ اسحاق ڈار نے تھائی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی درخواست پر شہریوں کو بنکاک سے گزرنے کی اجازت دی ۔

تمام شہری پہلے سنگاپور سے بنکاک پہنچے، وہاں سے وہ اسلام آباد کی پرواز میں سوار ہوئے اور بعد ازاں ایرانی شہریوں کو ان کے وطن بھیج دیا گیا ۔


ایران نے پاکستان پر اعتماد کیوں کیا؟

یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے کہ ایران نے پاکستان پر مکمل اعتماد کیا۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اپنے ۲۰ شہریوں کی واپسی کی ذمہ داری پاکستان کے سپرد کی ۔

اس کی وجہ پاکستان کا علاقائی سطح پر ثالث کے طور پر ابھرتا ہوا کردار ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کی تھی ۔ ۸ اپریل کو پاکستان کی کوششوں سے دو ہفتے کی جنگ بندی ہوئی اور اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات بھی ہوئے ۔


امریکا ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کا سفارتی کردار

پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران ثالث اور قابل اعتماد پارٹنر کا کردار ادا کیا ہے۔

فوری طور پر پاکستان نے امریکا کی جانب سے ضبط کردہ ایک اور ایرانی جہاز ’ایم وی توسکا‘ کے ۲۲ ایرانی عملے کو بھی پاکستان منتقل کیا تھا ۔ انہیں بعد ازاں ایران بھیج دیا گیا ۔

اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ "ممتاز شہریوں کی فلاح و بہود ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے" ۔ انہوں نے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس معاملے میں قریبی تعاون کیا ۔


پاکستان کی اس سفارتی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک عالمی سطح پر مشکل حالات میں بھی اپنے شہریوں کی حفاظت کر سکتا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ پاکستان نے اس طرح کا کردار ادا کیا ہو۔ اس سے قبل پاکستان نے امریکا کی حراست میں موجود ۲۲ ایرانی عملے کو بھی واپس بھجوایا تھا ۔

آئندہ بھی اگر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو پاکستان نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ ہمسایہ ممالک کے شہریوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور علاقائی استحکام کے لیے اس کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: پاکستان نے امریکا کی ضبط کردہ جہازوں سے شہریوں کی واپسی کیسے کرائی؟

جواب: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرقیادت پاکستان نے امریکا، سنگاپور اور تھائی لینڈ سے رابطہ کیا۔ سنگاپور اور تھائی لینڈ نے شہریوں کے سفر کی سہولت فراہم کی، جبکہ امریکا نے ان کی رہائی میں تعاون کیا ۔

سوال: کتنے پاکستانی اور ایرانی شہری واپس آئے؟

جواب: کل ۳۱ شہری واپس آئے جن میں ۱۱ پاکستانی اور ۲۰ ایرانی شہری شامل تھے۔ تمام افراد خیریت سے ہیں ۔

سوال: امریکا نے ان جہازوں کو کیوں روکا؟

جواب: امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے تحت ایرانی جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا۔ یہ کارروائی امریکا ایران کشیدگی کے تناظر میں کی گئی ۔

سوال: اس سے قبل پاکستان نے کون سے ایرانی شہری واپس بھجوائے؟

جواب: اس سے قبل پاکستان نے امریکا کی حراست میں موجود ’ایم وی توسکا‘ جہاز کے ۲۲ ایرانی عملے کو پاکستان منتقل کیا تھا، جنہیں بعد ازاں ایران بھیج دیا گیا ۔

سوال: اس کارروائی میں پاکستان کو کن ممالک کی مدد ملی؟

جواب: پاکستان کو سنگاپور، تھائی لینڈ، امریکا اور ایران کی مدد ملی۔ سنگاپور اور تھائی لینڈ نے سفری سہولیات فراہم کیں جبکہ امریکا نے شہریوں کی رہائی میں تعاون کیا ۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم