دہلی پولیس کی کارروائی: پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش تک پھیلا اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب



دہلی پولیس نے ایک بڑی کارروائی میں پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے منسلک بین الاقوامی اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران ۱۰ ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ ۲۱ جدید ترین آتشیں اسلحے اور ۲۰۰ سے زائد کارتوس برآمد ہوئے ہیں ۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف شمالی ہندوستان میں سرگرم جرائم پیشہ گروہوں کو اسلحہ فراہم کر رہا تھا بلکہ اس کے بین الاقوامی کنیکشنز نے جنوبی ایشیا میں کراس بارڈر کرائم کی نئی تعریف پیش کی ہے۔


اسلحہ کیسے پہنچتا تھا انڈیا تک؟

تحقیقات کے مطابق یہ ماڈیول پاکستان سے اسلحہ حاصل کرتا تھا، جسے بعد میں نیپال بھیجا جاتا تھا۔ یہاں اسلحہ کو پرزہ پرزہ کر کے سکریپ (کباڑ) میں چھپایا جاتا اور پھر بطور درآمدی سامان انڈیا کی سرحد میں داخل کیا جاتا۔ نیپال میں دوبارہ اسمبل کرنے کے بعد یہ اسلحہ پوریانی دلی (پرانی دلی) کے تنگ و تاریک راستوں سے ہوتا ہوا دہلی این سی آر اور دیگر ریاستوں میں جرائم پیشہ گروہوں تک پہنچایا جاتا تھا ۔

پولیس حکام کے مطابق یہ پورا نظام انتہائی منظم اور خفیہ تھا۔ اسمگلرز انکرپٹڈ میسجنگ ایپس اور کالز کا استعمال کرتے تھے جبکہ شناخت چھپانے کے لیے وہ بار بار سم کارڈز تبدیل کرتے تھے۔ مالی لین دین مکمل طور پر ہوالہ کے روایتی اور غیر رسمی نظام کے تحت ہوتا تھا، جس کی روایتی بینکنگ نظام میں کوئی دستاویز نہیں ملتی ۔


کون ہے اس نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ؟

اس پورے ماڈیول کا ماسٹر مائنڈ شہباز انصاری ہے، جو بلند شہر (اتر پردیش) کا رہائشی ہے۔ انصاری پر ماضی میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے اسلحہ اسمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ پنجابی گلوکار سدھو مودیوالہ کے قتل میں بھی کلیدی ملزم ہے۔ یہ وہی کیس ہے جس میں لارنس بشنوئی گینگ پر ملوث ہونے کا الزام ہے۔

شہباز انصاری کو ۲۰۲۵ میں عبوری ضمانت مل گئی تھی، جس کے بعد وہ انڈیا سے فرار ہو کر بنگلہ دیش چلا گیا اور وہیں سے اپنے چچا ریحان کے ساتھ مل کر اس پورے نیٹ ورک کو آپریٹ کر رہا تھا۔ اس کا بھائی شہزاد انصاری دبئی میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر پاکستان میں موجود ہتھیار فراہم کرنے والوں سے رابطے میں ہے ۔


پرانی دلی: اسمگلنگ کا خفیہ مرکز

پولیس کی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جامع مسجد کے آس پاس کے علاقے کو اس اسمگلنگ کا مرکز بنایا گیا تھا۔ یہاں کی تنگ گلیاں، زیادہ رش اور آمد و رفت کی پیچیدگی اس نیٹ ورک کے لیے محفوظ ٹھکانے کا کام کرتی تھیں ۔

۱۳ مارچ کو دریا گنج کے مقام پر پولیس نے پہلی بڑی کارروائی کرتے ہوئے راحیل، حاسم اور سیم نامی تین ملزمان کو گرفتار کیا۔ ان کے پاس سے تین اسٹار مارکڈ پستول اور ۱۴ زندہ کارتوس برآمد ہوئے۔ اس کے بعد ۲۴ مارچ تک جاری رہنے والی چھاپوں میں باقی سات ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتار ملزمان میں سونو گپتا، گھنشیام شرما، وسیم ملک، کشور آروڑہ، نواب، محمد نعمان اور محمد نوشاد شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ نے گرفتاری کے دوران پولیس پر فائرنگ کی کوشش بھی کی تاہم پولیس نے موقع پر ہی انہیں زیر کر لیا۔


برآمد ہونے والے اسلحہ کی نوعیت: اسپیشل فورسز والے ہتھیار

پولیس نے جو اسلحہ برآمد کیا ہے وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے انتہائی جدید اور مہلک ہیں۔ ان میں چیک ریپبلک کی بنی سکورپین سب مشین گن، اٹلی کی بریٹا پستول، برازیل کی ٹورس، جرمنی کی والٹر، CZ شیڈو، ترکی کی سٹوگر، اور PX-5.7 پستول شامل ہیں ۔

خاص طور پر پستول وہ ہتھیار ہے جو عام طور پر اسپیشل فورسز استعمال کرتی ہیں۔ اس طرح کے اسلحے کا جرائم پیشہ گروہوں تک پہنچنا قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے ۔


عالمی تناظر: جنوبی ایشیا میں منظم جرائم کا نیٹ ورک

یہ صرف ایک علیحدہ واقعہ نہیں ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ٹرانس نیشنل کرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان سے نیپال اور بنگلہ دیش کے راستے انڈیا تک اسلحہ اور منشیات کی ترسیل کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے ۔

ماہرین کے مطابق یہ نیٹ ورک نہ صرف اسلحہ بلکہ منشیات اور جعلی کرنسی بھی اسمگل کرتے ہیں۔ حال ہی میں پنجاب پولیس نے ۵۱.۵ کلو ہیروئن ضبط کی تھی جو پاکستان سے اسمگل کی گئی تھی ۔ دہلی پولیس کی اس کارروائی سے ان بین الاقوامی سپلائی چینز کی پیچیدگی کا پتہ چلتا ہے۔


دہلی پولیس کی حکمت عملی: ٹیکنیکل سرویلنس سے لے کر ہیومن انٹیلی جنس تک

اس بڑی کامیابی کے پیچھے دہلی پولیس کی ٹیکنیکل سرویلنس اور ہیومن انٹیلی جنس کا امتزاج تھا۔ ڈی سی پی (کرائم برانچ) سنجیو کمار یادو کی قیادت میں انسداد ڈکیتی اور چھینا جھپٹی سیل نے مہینوں سے اس نیٹ ورک پر نظر رکھی ہوئی تھی ۔

پولیس نے کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) اور تکنیکی نگرانی کے ذریعے ملزمان کے درمیان رابطوں کا جال بچھایا۔ جب کسی ملزم نے گرفتاری کے دوران فرار ہونے کی کوشش کی یا فائرنگ کی، تو پولیس نے فوری اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا ۔


ایک بحران کا خاتمہ، یا ایک طویل جنگ کا آغاز؟

دہلی پولیس کی یہ کارروائی یقیناً شمالی ہندوستان میں منظم جرائم کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے۔ ۱۰ ملزمان کی گرفتاری اور ۲۱ جدید اسلحے کی برآمدگی نے لارنس بشنوئی جیسی گینگز کی طاقت کو کمزور کیا ہے۔ تاہم، یہ محض ایک سرے کو پکڑنے کے مترادف ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش میں موجود ماسٹر مائنڈز تک رسائی ممکن ہو سکے گی؟ شہباز انصاری جیسے بھگوڑے کی واپسی اور ہوالہ کے ذریعے ہونے والی فنڈنگ پر قابو پانا ابھی باقی ہے۔ جب تک سرحدوں کے آر پار قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان حقیقی ہم آہنگی نہیں ہوتی، اس طرح کے نیٹ ورک نئے راستے اور نئے ناموں سے پھر سے سر اٹھا سکتے ہیں۔

اس کارروائی نے یہ پیغام ضرور دے دیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر، خواہ وہ کسی بھی سرحد کے پار کیوں نہ ہوں، قانون کی پہنچ سے باہر نہیں ہیں۔


FAQs

سوال: دہلی پولیس نے یہ بڑی کارروائی کہاں اور کیسے کی؟

جواب: دہلی پولیس کرائم برانچ نے ۱۳ سے ۲۴ مارچ ۲۰۲۶ کے درمیان یہ کارروائی کی۔ پہلی گرفتاری دریا گنج، دہلی سے ہوئی جہاں تین ملزمان پستول اور کارتوس کے ساتھ پکڑے گئے۔ اس کے بعد دہلی این سی آر اور اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر باقی ملزمان کو گرفتار کیا گیا ۔

سوال: اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک کا سرغنہ شہباز انصاری کون ہے؟

جواب: شہباز انصاری اتر پردیش کے بلند شہر کا رہائشی ہے اور ایک بین الریاستی اسلحہ اسمگلر ہے۔ یہ ۲۰۲۲ میں پنجابی گلوکار سدھو مودیوالہ کے قتل میں مطلوب تھا اور لارنس بشنوئی گینگ کو اسلحہ فراہم کرتا تھا۔ اس وقت یہ بنگلہ دیش سے فرار ہو کر نیٹ ورک چلا رہا ہے ۔

سوال: پاکستان سے انڈیا تک اسلحہ کیسے پہنچایا جاتا تھا؟

جواب: پاکستان سے اسلحہ پہلے نیپال بھیجا جاتا تھا۔ نیپال میں اسے کباڑ (سکریپ) میں چھپا کر انڈیا کی سرحد میں داخل کیا جاتا۔ پھر اسے دوبارہ اسمبل کر کے پوریانی دلی میں موجود ذخیرہ اندوزوں تک پہنچایا جاتا، جہاں سے یہ مختلف ریاستوں میں تقسیم ہوتا تھا ۔

سوال: برآمد ہونے والے اسلحے میں کون کون سے ممالک کی تیار کردہ جدید ترین ہتھیار شامل ہیں؟

جواب: برآمد ہونے والے اسلحے میں چیک ریپبلک کی سکورپین سب مشین گن، اٹلی کی بریٹا، برازیل کی ٹورس، جرمنی کی والٹر، ترکی کی سٹوگر، اور چین کی پستول شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اسلحہ اسپیشل فورسز کے استعمال میں آنے والے ہتھیار ہیں ۔

سوال: اس نیٹ ورک کے خلاف مزید کارروائی کیا ہے؟

جواب: دہلی پولیس اس وقت اس نیٹ ورک کے بین الاقوامی کنیکشنز اور فنڈنگ کے ذرائع کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس ہوالہ نیٹ ورک اور پاکستان، بنگلہ دیش میں موجود ہینڈلرز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تکنیکی اور انٹیلی جنس ذرائع استعمال کر رہی ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم