درجے کاسیلاب:بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کوخبردارکر دیا
درجے کاسیلاب:بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کوخبردارکر دیا
3 بڑے ڈیمز میں پانی کا ذخیرہ ایک کروڑ 15 لاکھ 60 کے باعث دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کےمقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیداہوگئی ،دوسری طرف بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب میں سیلاب کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے پاکستان کو باقاعدہ انتباہ جاری کردیا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ مئی میں چار روزہ کشیدگی کے دوران معطل کر دیا گیا تھا،کئی دہائیوں پرانے اس سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ ہائیڈرو لو جیکل ڈیٹا کا تبادلہ کرنا ضروری ہے،سرکاری ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے حالیہ جنگ کے بعد پہلی بار پاکستانی وزارت خارجہ سے بڑا رابطہ کیاہے جس میں زیادہ سیلابی سطح کی معلومات دی گئیں۔
پاکستان میں سرکاری عہدیداروں نے اس انتباہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت نے خاص طور پر جموں میں دریائے توی میں پانی کی بلند ہوتی ہوئی سطح کے بارے میں خبردار کیا ہے جودریائے چناب کا ایک اہم معاون دریا ہے،انہوں نے اسے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے بعد پہلی اہم بات چیت قرار دیا جس کا محور شدید سیلاب کا خطرہ تھا۔
اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے توی کے بارے میں سیلاب کا انتباہ جاری کیا جو پاکستان کے دریائے چناب میں شامل ہوتا ہے اور گجرات اور سیالکوٹ کے سرحدی اضلاع سے بہتا ہے،یہ انتباہ اس وقت آیا جب بھارت نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ سندھ طاس معاہدہ معطل کر رہا ہے، بعد ازاں پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں ایک حملے کا الزام لگایاگیا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر سیاح تھے، پاکستان نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیاتھا۔
بھارتی انتباہ کے بعد پنجاب میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے سیلاب کا انتباہ جاری کردیاہے۔
دوسری طرف دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والاپراونچے درجےاورہیڈسلیمانکی پردرمیانے درجے کاسیلاب ہے،سیلاب کے باعث قصورمیں مزیدکئی علاقے ڈوب گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکٹرفصل تباہ ہوگئی ہیں،دریائےراوی میں بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے،اوباڑو میں بھی نچلے درجے کی سیلابی صورتحال،رونتی کچے کے مختلف علاقے بھی سیلاب کی زد میں آگئے ہیں اورعلاقہ مکین محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ہیں۔
گجرات کے قریب بھمبر نالے میں طغیانی کے باعث زرعی اراضی زیر آب آگئی،مرالہ اورخانکی پربھی نچلے درجے کاسیلاب ہے،دریائے سندھ میں گڈواورسکھر بیراج پردرمیانے درجے کاسیلاب ہے،نالہ ایک ،بئیں اور بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے،اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہرکیاگیاہے۔ گنڈا سنگھ کےمقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 22ہزار 326 ریکارڈ کی گئی، لکھا سلدیرا،رحیم شاہ اور گاہی شاہ میں ہرطرف پانی،چشتیاں ساہوکا روڈ بھی پانی میں بہہ گئی،سیکڑوں گھرانے اور مویشی پانی میں گھر گئے،انتظامیہ نے امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
موسلادھار بارشوں کے سبب دریائے راوی اور دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے پر سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیاہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 48 گھنٹوں کے لیے دریائے راوی پر درمیانے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیاہے،دریائے راوی اور اس کے ملحقہ ندی نالوں میں شدید بارشوں کے باعث تھین ڈیم 1717 فٹ کے ساتھ 86 فیصد تک بھر چکا ہے،دریائے راوی میں کوٹ نیناں کے مقام پر حالیہ بہاؤ 64ہزار کیوسک تک ریکارڈ کیا گیا، آئندہ 24 گھنٹوں میں جسر کے مقام پر درمیانے درجے تک کا سیلاب متوقع ہے۔
ڈیم سے اخراج کی صورت میں سیالکوٹ، نارووال، قصور اور گردونواح کے نشیبی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں لہٰذا شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں،عوام ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری کردہ الرٹ اور ہدایات پر عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافے اور اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے،ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں ہریکے ڈاؤن اسٹریم پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نےلاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے کمشنرز جبکہ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کردیاہے،ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق لوکل گورنمنٹ، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، لائیو سٹاک اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کیا گیا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام تر انتظامات مکمل کریں۔

Comments
Post a Comment