متحدہ عرب امارات نے بھی


 

متحدہ عرب امارات نے بھی افغان شہریوں کی ملک بدری کا فیصلہ کر لیا

ابوظہبی: پاکستان اور ایران کے بعد اب متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی اپنی سرزمین پر موجود افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں افغان مہاجرین کے حوالے سے کئی ممالک سخت فیصلے کر رہے ہیں۔

افغان شہریوں کو کب اور کیوں پناہ دی گئی؟

امریکی انخلا کے دوران، جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی، تو ہزاروں افغان شہریوں نے ملک چھوڑنے کی کوشش کی۔ ان ہی دنوں میں امریکی حکومت کی درخواست پر متحدہ عرب امارات نے ہزاروں افغان باشندوں کو عارضی پناہ دی۔ ان افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یو اے ای کے مختلف مراکز میں رکھا گیا تھا۔

ملک بدری کا آغاز ہو چکا ہے

یو اے ای حکام کے مطابق، افغان شہریوں کی ملک بدری کا عمل 10 جولائی 2025 سے شروع ہو چکا ہے۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ ان تمام افراد کو اب واپس افغانستان بھیجا جا رہا ہے، اور اس حوالے سے امریکی حکومت کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔

علاقائی تناظر میں اہم پیش رفت

واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان اور ایران بھی ہزاروں افغان شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں۔ ان اقدامات کو بعض ماہرین علاقائی سیکیورٹی اور اقتصادی دباؤ سے جوڑ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے مخلوط ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے خطے میں امن و امان کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر انسانی حقوق کے تناظر میں اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم