نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ اور گراس میٹرنگ کا نفاذ


 

نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ اور گراس میٹرنگ کا نفاذ

پاور ڈویژن کے مطابق موجودہ نیٹ میٹرنگ سسٹم سے قومی خزانے پر 103 ارب روپے کا بوجھ پڑا۔ اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے نئی پالیسی میں گراس میٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے تحت گھریلو صارفین 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی بیچتے تھے، جو اب تبدیل کر دیا گیا ہے۔

پرانے اور نئے صارفین کے لیے مختلف نرخ

نئی پالیسی کے مطابق صرف نئے سولر صارفین پر نئی شرح لاگو ہوگی۔ پرانے صارفین 27 روپے فی یونٹ پر بجلی فروخت کرتے رہیں گے۔ آئندہ بجلی کی جو بھی قیمت مقرر ہوگی، واپسی نرخ اس کا ایک تہائی ہوگا۔

گراس میٹرنگ کے اثرات

نئی پالیسی کے تحت حکومت کا مقصد 8,500 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرنا ہے۔ اس اقدام سے قومی توانائی پالیسی میں بہتری آئے گی اور توانائی کے شعبے میں مالی استحکام حاصل ہوگا۔ تاہم، نئی شرح پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس سے سولر پینل کی مقبولیت اور تنصیب کی شرح متاثر ہو سکتی ہے۔


اہم نکات:

  • نیٹ میٹرنگ ختم، گراس میٹرنگ نافذ

  • بجلی واپسی نرخ 11.33 روپے فی یونٹ مقرر

  • پرانے صارفین 27 روپے فی یونٹ پر بجلی فروخت کرتے رہیں گے

  • واپسی نرخ مستقبل کی بجلی قیمت کا ایک تہائی ہوگا

  • نئی پالیسی نیپرا منظوری کے بعد کابینہ میں پیش کی جائے گی

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم