چین میں پاکستانی نٹ وئیر کی برآمدات میں 11 فیصد اضافہ


 

چین میں پاکستانی نٹ وئیر کی برآمدات میں 11 فیصد اضافہ – پاکستانی ملبوسات کی مانگ میں تیزی

پاکستان کی نٹ اور کروشیہ ملبوسات کی برآمدات، جن میں جرسی، پلوور، کارڈیگن اور ویسٹ کوٹ شامل ہیں، سال 2025 کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران 11 فیصد اضافہ کے ساتھ $4.30 ملین تک پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ سال اسی مدت میں $3.87 ملین تھیں۔ یہ اعداد و شمار چائنا کسٹمز کے تازہ ترین ڈیٹا سے حاصل کیے گئے ہیں۔

چائنا میں پاکستانی گارمنٹس کی بڑھتی مانگ

یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے چین کی مسابقتی ملبوسات مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کیا ہے، خصوصاً درمیانے درجے کی ونٹر ویئر مصنوعات میں۔ پاکستانی برآمد کنندگان نے کاپٹن-بلینڈڈ نٹ وئیر میں اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا ہے اور چینی معیار و سرٹیفیکیشن کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کیا ہے۔

لاہور کے معروف تجارتی ماہر محمد اظہر کے مطابق:

"پاکستانی ایکسپورٹرز نے جدید ڈائنگ اور فنشنگ ٹیکنیکس اپنا کر چینی صارفین کی ترجیحات کو بہتر طور پر سمجھا ہے، جو آرام دہ اور پائیدار ونٹر کپڑوں کو ترجیح دیتے ہیں۔"

چینی صوبے پاکستانی ملبوسات کے بڑے درآمد کنندگان

چین کے مشرقی ساحلی صوبے پاکستانی نٹ وئیر کے بڑے درآمد کنندگان کے طور پر سامنے آئے ہیں، جن میں جیانگ سو (Jiangsu) نے $2.79 ملین کی درآمدات کے ساتھ سرفہرست مقام حاصل کیا۔ اس کے بعد ژجیانگ (Zhejiang) اور ہینان (Henan) صوبے آتے ہیں۔

زیادہ تر درآمدات پرائیویٹ لیبل اور ای کامرس ملبوسات کے شعبے کے ذریعے ہو رہی ہیں، جو مقامی پیداوار کے مقابلے میں کم لاگت متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

CPFTA-II کے تحت پاکستان کو زیرو ٹیرف رسائی

پاکستان کو چائنا-پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ فیز ٹو (CPFTA-II) کے تحت زیرو ٹیرف رسائی حاصل ہے، جس کی بدولت پاکستانی برآمدات کو علاقائی حریفوں پر نمایاں برتری حاصل ہے۔ چین میں تعینات ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر غلام قادر کے مطابق:

"CPFTA-II پاکستانی برآمدات کے لیے گیم چینجر ثابت ہوا ہے، لیکن مسلسل ترقی کے لیے مصنوعات کی تنوع اور ڈیزائن انوویشن ضروری ہے۔"

ماحولیاتی موافقت اور مستقبل کے مواقع

ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ چین میں ماحول دوست اور پائیدار نٹ وئیر کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ محمد اظہر نے کہا کہ اگر پاکستانی ایکسپورٹرز چین کے گرین ٹیکسٹائل اسٹینڈرڈز پر عمل کریں اور ریسائیکل یارن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں تو انہیں اعلیٰ معیار کی مارکیٹ میں داخل ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

سردیوں میں مزید برآمدات کا امکان

چونکہ سردیوں کا موسم قریب ہے، اس لیے پاکستانی نٹ وئیر سیکٹر کے بارے میں ماہرین پر امید ہیں کہ سال کے دوسرے حصے میں بھی یہ ترقی کا رجحان برقرار رکھے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم