میانمار: 6 سالہ بچی کی گرفتاری،
میانمار: 6 سالہ بچی کی گرفتاری، ریٹائرڈ جرنیل کے قتل کا الزام – عالمی برادری تشویش میں مبتلا
میانمار میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سیکیورٹی فورسز نے ایک 6 سالہ بچی کو اس کی والدہ اور دیگر 15 مشتبہ افراد کے ہمراہ ریٹائرڈ جرنیل کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف انسانی حقوق کے اداروں کو چونکا دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
قتل کا پس منظر: جنرل چو ٹن آونگ کی ہلاکت
میڈیا رپورٹس کے مطابق، 22 مئی کو ینگون میں ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل چو ٹن آونگ کو ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کیا گیا۔ جنرل چو ماضی میں سفارتی عہدے پر فائز رہے اور حالیہ دنوں میں نیشنل ڈیفنس کالج میں داخلی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی تعلیم دے رہے تھے۔
گرفتاریاں اور الزامات
ریاستی میڈیا کے مطابق، اس قتل کے بعد میانمار کی فوجی حکومت نے ملک کے چار مختلف علاقوں سے 13 مرد اور 3 خواتین کو گرفتار کیا ہے۔ حیران کن طور پر ان افراد میں ایک 6 سالہ بچی لنلاٹ شوے بھی شامل ہے، جو مبینہ قاتل میو کو کو کی بیٹی ہے۔ بچی اور اس کے والدین کو مرکزی شہر بگان سے گرفتار کیا گیا ہے۔
گرفتار افراد میں ایک نجی اسپتال کا مالک بھی شامل ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے حملے کے دوران زخمی ہونے والے حملہ آور کا علاج کیا۔
گولڈن ویلی واریئرز کی ذمہ داری اور انکار
ایک غیر معروف مسلح گروہ گولڈن ویلی واریئرز نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے، لیکن انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے 16 افراد کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
پس منظر: میانمار میں خانہ جنگی اور ٹارگٹ کلنگ
یاد رہے کہ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار میں خانہ جنگی کی صورتحال ہے، اور مسلسل حکومتی افسران، فوجی اہلکاروں، کاروباری شخصیات اور مشتبہ مخبروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کشیدگی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور ماورائے عدالت گرفتاریاں بھی بڑھ چکی ہیں۔
عالمی ردعمل اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش
بچی کی گرفتاری کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 6 سالہ بچے کو سیاسی یا عسکری تنازعے میں شامل کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

Comments
Post a Comment