بھارت کی آبی جارحیت:
بھارت کی آبی جارحیت: لداخ میں چار نئے منصوبے، دریائے سندھ کے بہاؤ پر خطرناک وار
بھارت نے ایک بار پھر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازعہ علاقے لداخ میں دریائے سندھ کے بہاؤ کو روکنے کے لیے چار نئے ہائیڈرو پاور منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے۔ انکشاف معروف آبی ماہر انجینئر ارشد ایچ عباسی کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو بھیجے گئے ایک خط میں کیا گیا ہے۔
لداخ میں نئے ہائیڈرو پاور منصوبے: بھارت کی آبی سازش
خط کے مطابق بھارت اچنتھنگ، سانجک، پارفیلا، باتالک اور خلستی میں 10 میگا واٹ کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے ماسٹر پلان پر کام کر رہا ہے۔ یہ منصوبے نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پاکستان کے لیے آبی سلامتی کے شدید خدشات پیدا کرتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی
سندھ طاس معاہدہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت بھارت لداخ جیسے متنازع علاقوں میں صرف 0.25 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ لیکن ارشد عباسی کے مطابق بھارت پہلے ہی 45 میگا واٹ کے نمو بازگو اور 44 میگا واٹ کے چٹک منصوبے تعمیر کر چکا ہے، جنہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
فوجی مقاصد یا مقامی عوام کا استحصال؟
آبی ماہر نے مزید لکھا کہ ان منصوبوں کا اصل مقصد سیاسچن گلیشئر میں تعینات بھارتی فوجیوں کے لیے حرارت اور توانائی کی فراہمی ہے، جب کہ لداخ کے مقامی عوام آج بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔ یہ ایک انسانی المیہ بھی ہے اور ماحولیاتی خطرہ بھی۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری کا کردار
ارشد عباسی نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ فوری طور پر سندھ طاس معاہدے کو اس کی اصل شکل میں بحال کرے۔ انہوں نے بھارت کے ان اقدامات کو پاکستان کے لیے "سزائے موت" کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ یہ وادی سندھ کی عظیم تہذیب کو مٹانے کی سازش ہے۔
چین کی ممکنہ جوابی کارروائی
دوسری طرف عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش کی، تو چین براہما پترا دریا کا پانی روکنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ یہ دریا بھارت کو 30 فیصد پانی فراہم کرتا ہے اور اس کی پن بجلی پیداوار کا 44 فیصد اسی دریا سے وابستہ ہے۔
ورلڈ بینک کا مؤقف
یاد رہے کہ ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ صرف باہمی رضامندی سے ہی اس میں ترمیم ممکن ہے۔
نتیجہ:
بھارت کی جانب سے آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کے ماحولیاتی توازن کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ، اور ورلڈ بینک کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں۔

Comments
Post a Comment