ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدگی اختیار کرلی، "ڈوگ" پروگرام کا اختتام
ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے اپنی علیحدگی کی تصدیق کر دی ہے، جس کے ساتھ ہی ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (D.O.G.E) میں ان کا متنازعہ کردار بھی ختم ہو گیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" (X) پر جاری کردہ بیان میں مسک نے کہا:
"ایک خصوصی حکومتی ملازم (Special Government Employee) کے طور پر میری مقررہ مدت مکمل ہو چکی ہے۔ میں صدر @realDonaldTrump کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے سرکاری فضول خرچی کم کرنے کا موقع دیا۔ @DOGE مشن وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوگا اور حکومت میں ایک طرزِ زندگی بن جائے گا۔"
ڈوگ پروگرام کی تفصیلات
ایلون مسک کو ایک وقتی حکومتی ماہر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، جو سالانہ زیادہ سے زیادہ 130 دن خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ D.O.G.E پروگرام کا مقصد وفاقی اخراجات میں کمی اور بیوروکریسی کو مؤثر بنانا تھا۔
ابتداء میں مسک نے 2 ٹریلین ڈالر کی بچت کا ہدف دیا، جو بعد میں گھٹ کر 150 ارب ڈالر تک محدود ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اس پروگرام کے تحت تقریباً 2.3 ملین وفاقی ملازمین میں سے 2,60,000 ملازمین کو فارغ کیا گیا، جن میں کئی اہم ادارے جیسے کہ امریکی نیوکلیئر پروگرام بھی متاثر ہوئے۔ کچھ معاملات میں عدالتوں کو مداخلت کر کے ملازمین کو بحال کرنا پڑا۔
ٹرمپ سے اختلافات اور علیحدگی کی وجوہات
ایلون مسک کی علیحدگی ایک ایسے وقت پر ہوئی جب انہوں نے ٹرمپ کے نئے وفاقی بجٹ کو عوامی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ CBS کو دیے گئے انٹرویو میں مسک نے کہا کہ یہ بجٹ "وفاقی خسارے میں اضافہ" کرے گا اور D.O.G.E پروگرام کی کوششوں کو "کمزور" کرے گا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا:
"ایک بل بڑا ہو سکتا ہے یا خوبصورت، لیکن دونوں نہیں۔"
ذرائع کے مطابق، بدھ کی رات وائٹ ہاؤس نے مسک کے "آف بورڈنگ" کا عمل شروع کیا، جو ان کی علیحدگی کا پہلا باضابطہ قدم تھا۔
کاروباری زوال اور سیاسی وابستگی
ایلون مسک کا سرکاری کردار ایسے وقت میں ختم ہوا جب ان کی کمپنی ٹیسلا (Tesla) کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کی فروخت میں 13 فیصد کمی ہوئی — جو تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ تھی۔ ٹیسلا کا اسٹاک بھی تقریباً 45 فیصد نیچے گیا، حالانکہ بعد میں کچھ بحالی دیکھی گئی۔
مزید برآں، امریکہ بھر میں ٹیسلا شورومز اور چارجنگ اسٹیشنز پر احتجاج اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ مظاہرین نے ان حملوں کو مسک کی سیاسی وابستگی سے جوڑا۔ اٹارنی جنرل پام بونڈی نے ان واقعات کو "ڈومیسٹک ٹیررزم" قرار دیا۔
سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان
قطر اکنامک فورم (Qatar Economic Forum) میں خطاب کرتے ہوئے، مسک نے کہا کہ وہ اگلے پانچ سال تک ٹیسلا کی قیادت جاری رکھیں گے اور سیاست سے دوری اختیار کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ سیاسی چندے کم کریں گے، جب کہ پچھلے سال انہوں نے 300 ملین ڈالر سے زائد رقم ٹرمپ کی انتخابی مہم اور دیگر ریپبلکن مقاصد کے لیے عطیہ کی تھی۔

Comments
Post a Comment