آیت اللہ خامنہ ای کی مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کی ستائش:


 

آیت اللہ خامنہ ای کی مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کی ستائش: ایران اور پاکستان کے تعلقات میں نئی گرمجوشی

 ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اصولی اور مضبوط مؤقف اپنایا ہے، جس کی مثال دیگر مسلم ممالک کے لیے قابل تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کو مل کر صیہونی حکومت کو غزہ میں جاری جرائم سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

پاکستان کا اصولی مؤقف اور مسلم دنیا میں کردار

آیت اللہ خامنہ ای نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے مسلم ممالک کو ہمیشہ ترغیبات دی جاتی رہی ہیں، مگر پاکستان ان ترغیبات سے کبھی متاثر نہیں ہوا۔ انہوں نے پاکستان کی فلسطینیوں کے حق میں مسلسل حمایت کو قابل تحسین قرار دیا۔

مسلم اتحاد کی ضرورت

آیت اللہ خامنہ ای نے افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ مسلم ممالک اسرائیل کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کو مسلم دنیا میں ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مسئلہ فلسطین کو درست سمت میں لے جایا جا سکے۔ انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، تعلقات کی مضبوطی اور مشترکہ حکمت عملی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

پاک بھارت تعلقات پر اطمینان

اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے پاک بھارت تنازعات میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک تنازعات کا پرامن حل نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جب مختلف قوتیں جنگ و تقسیم کی کوشش کر رہی ہیں، ایسے میں مسلم اقوام کے درمیان ہم آہنگی ہی امن و سلامتی کی ضمانت ہے۔

اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کی بحالی پر زور

آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اور پاکستان کے تعاون سے اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کو ازسرنو فعال کیا جانا چاہئے تاکہ علاقائی اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران اقتصادی تعلقات دونوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاک ایران تعلقات کا تاریخی پس منظر

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ پاک ایران تعلقات ہمیشہ برادرانہ اور گرمجوش رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عراق جنگ کے دوران پاکستان کا مؤقف ان برادرانہ تعلقات کی ایک واضح مثال تھا۔

اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

تہران میں ہونے والی ملاقات کے دوران ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان بھی موجود تھے۔ پاکستانی وفد میں وزیراعظم کے ہمراہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیرداخلہ محسن رضا نقوی اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ بھی شامل تھے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم