سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر
سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس: اہم نکات اور عدالتی ریمارکس
سپریم کورٹ آف پاکستان میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے اہم نظرثانی کیس کی سماعت جاری ہے۔ 11 رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس امین الدین کر رہے ہیں، نے اس حساس نوعیت کے مقدمے پر تفصیلی سماعت کی۔
جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی کے اہم ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے واضح ریمارکس دیے کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ جماعت ایک پارلیمانی پارٹی تشکیل دے سکتی ہے، لیکن متناسب نمائندگی کی بنیاد پر مخصوص نشستوں کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ جب سنی اتحاد کونسل نے خود عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا تو وہ مخصوص نشستوں پر کیسے دعویٰ کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ آزاد اراکین صرف ایسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں جو پارلیمنٹ میں پہلے سے موجود ہو۔
وکیل مخدوم علی خان کے دلائل
سنی اتحاد کونسل کے وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اپنایا کہ آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ الحاق کیا تھا، لہٰذا جماعت کو مخصوص نشستوں پر حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا لیکن بغیر کسی نوٹس کے، جو کہ آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔
آرٹیکل 225 اور عدالتی دائرہ اختیار پر بحث
دلائل کے دوران آرٹیکل 225 کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے مطابق "کسی انتخاب کو چیلنج کرنے کا واحد فورم الیکشن ٹریبونل ہے"۔ جسٹس محمد علی مظہر نے وضاحت کی کہ معاملہ مخصوص نشستوں کا ہے جو الیکشن سے قبل جمع شدہ فہرست کے مطابق الاٹ کی جاتی ہیں۔
سپریم کورٹ کا آئندہ فیصلہ اہم
نظرثانی درخواست کے دوران جسٹس مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر اکثریتی ججز نے پچھلے فیصلے کو درست تسلیم کیا تو کیا ہوگا؟ جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسی صورت میں نظرثانی مسترد کر دی جائے گی۔
نتیجہ اور قانونی پہلو
یہ کیس پاکستان کے آئینی ڈھانچے، انتخابی شفافیت اور پارلیمانی طرزِ حکومت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سنی اتحاد کونسل کا مخصوص نشستوں پر دعویٰ اور عدالتی نظرثانی کا عمل مستقبل میں آزاد امیدواروں کے انضمام اور پارلیمانی نظام پر اثر انداز ہو

Comments
Post a Comment