سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ:
سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ: سنی اتحاد کونسل کی درخواستیں مسترد، لائیو سٹریمنگ کی اجازت
– پاکستان کی سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں سنی اتحاد کونسل کی متفرق درخواستوں پر اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے کیس کی لائیو سٹریمنگ کی اجازت دیتے ہوئے بنچ کی تشکیل پر اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔
آئینی بنچ میں سماعت، لارجر بنچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی
عدالتِ عظمیٰ میں نظرثانی درخواست کی سماعت آئینی بنچ میں ہوئی جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے۔ بنچ نے 12 جولائی کے فیصلے پر نظرثانی کے حوالے سے متاثرہ خواتین کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل مخدوم علی خان کے دلائل مکمل سنے۔
1980 کے رولز یا نئی آئینی ترمیم؟
مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ آرٹیکل 191A اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے نفاذ کے بعد اب 1980 کے رولز لاگو نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی بنچ کا دائرہ کار واضح کر دیا گیا ہے، اور اب نظرثانی کی سماعت بھی آئینی بنچ ہی کرے گا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ 1980 کے کون سے رولز نئی آئینی ترمیم سے متصادم ہیں؟ جس پر وکیل نے وضاحت دی کہ نظرثانی درخواستوں کی حد تک یہ رولز مطابقت نہیں رکھتے۔
بنچ کی تشکیل پر اعتراض، وکیل نے اسے 13 رکنی قرار دیا
مخدوم علی خان نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک موجودہ بنچ 13 رکنی ہے، اور اس میں 7 ججز کی اکثریت سے فیصلہ کیا جانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت کیس کی براہ راست نشریات کا فیصلہ کرتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔
ملتوی کرنے کی درخواست مسترد
وکیل نے ایک اور درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ جب تک 26ویں ترمیم کا فیصلہ نہیں آتا، اس کیس کو ملتوی کیا جائے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ کسی کیس کو کب سماعت کے لیے لگانا ہے، یہ اختیار صرف عدالت کو حاصل ہے، کسی فریق کی خواہش پر یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
اہم نکات:
-
سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی متفرق درخواستیں مسترد کر دیں۔
-
کیس کی لائیو سٹریمنگ کی اجازت دے دی گئی۔
-
آئینی بنچ میں نظرثانی درخواست کی سماعت جاری۔
-
1980 کے رولز اب جزوی طور پر غیر مؤثر قرار دیے جا رہے ہیں۔
-
26ویں آئینی ترمیم بنچ کی تشکیل اور اختیار پر اثرانداز۔
نتیجہ
یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک اہم سنگِ میل ہے، خاص طور پر مخصوص نشستوں اور آئینی ترمیم سے متعلق قانونی پیچیدگیوں کے حوالے سے۔ عدالت کا بنچ کی تشکیل پر اعتراضات کو مسترد کرنا، اور لائیو سٹریمنگ کی اجازت دینا شفافیت کی جانب مثبت قدم ہے۔

Comments
Post a Comment