پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار دے دیا
لاہور (24 نیوز) — پاکستان کی وزارت آبی وسائل نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ سیکرٹری آبی وسائل سید علی مرتضیٰ کی جانب سے اپنے بھارتی ہم منصب کو ایک باضابطہ خط لکھا گیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں۔
سندھ طاس معاہدہ: قانونی حیثیت اور پاکستان کا مؤقف
خط کے متن کے مطابق، سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو دونوں ممالک، یعنی پاکستان اور بھارت، کے درمیان عالمی ثالثی اور عالمی بینک کی نگرانی میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے میں یکطرفہ چھیڑ چھاڑ یا معطلی کی نہ صرف اجازت نہیں بلکہ اس کے لیے استعمال کیے گئے الفاظ بھی معاہدے میں موجود نہیں ہیں۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اب بھی اس معاہدے کو اس کی اصل شکل میں قائم تصور کرتا ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو معاہدے کی روح کے منافی سمجھتا ہے۔
بھارت کا اقدام تشویشناک
پاکستانی حکام کے مطابق، بھارت کا یہ اقدام عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، جو خطے میں آبی وسائل کی تقسیم کے نازک توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور سندھ طاس معاہدے کو متنازع نہ بنائے۔
اختتامیہ
سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے اقدامات نہ صرف خطے میں تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دیرینہ معاہدوں پر بھی سوالیہ نشان لگا سکتے ہیں۔ پاکستان کا دو ٹوک مؤقف یہ ہے کہ یہ معاہدہ آج بھی اپنی قانونی حیثیت رکھتا ہے اور اسے کسی بھی صورت یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔

Comments
Post a Comment