پاک ایران بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ:


 

پاک ایران بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ: زائرین کے لیے خوشخبری

وزیر داخلہ پاکستان محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے درمیان تہران میں ہونے والی اہم ملاقات میں زائرین کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ اربعین 2025 اور محرم الحرام کے دوران پاک ایران بارڈر 24 گھنٹے زائرین کے لیے کھلا رکھا جائے گا۔

زائرین کی سہولت کے لیے بڑے فیصلے

اس ملاقات میں زائرین کی سہولت اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے جن میں:

  • پاک ایران بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا اعلان

  • ہنگامی حالات میں فوری رابطے کے لیے ہاٹ لائن کا قیام

  • مشہد میں پاکستانی زائرین سے متعلق پاکستان، ایران اور عراق کی تین ملکی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ

  • زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر پروازوں کی تعداد بڑھانے پر اتفاق

  • زائرین کو بحری راستے سے ایران اور عراق بھیجنے پر غور

ایرانی حکومت کی جانب سے خصوصی انتظامات

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اعلان کیا کہ ایران پانچ ہزار پاکستانی زائرین کے لیے مشہد میں قیام و طعام کی سہولیات فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی حکومت بارڈر سے عراق تک خصوصی انتظامات کرے گی تاکہ زائرین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

سکیورٹی اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال

ملاقات میں دونوں وزرائے داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، اور انسداد منشیات کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو کی۔ ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی ایران کے لیے اہم ہے اور زائرین کی خدمت مذہبی فریضہ ہے۔

ماہی گیروں کی رہائی اور ہاٹ لائن کا قیام

اس موقع پر پاکستانی بحری حدود میں گرفتار ایرانی ماہی گیروں کی رہائی پر بھی بات چیت ہوئی، جس پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "ہاٹ لائن کے قیام سے زائرین کے مسائل فوری حل کرنے میں مدد ملے گی۔"

نتیجہ

یہ اہم پیش رفت نہ صرف زائرین کے لیے خوش آئند ہے بلکہ پاک ایران تعلقات کے فروغ کی بھی ایک روشن مثال ہے۔ اربعین 2025 اور محرم الحرام کے موقع پر لاکھوں زائرین کی آمد متوقع ہے، ایسے میں دونوں ممالک کا تعاون زائرین کی سہولت، سکیورٹی اور آرام دہ سفر کے لیے نہایت اہم ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

متحدہ عرب امارات کی توانائی حکمت عملی: عالمی بحران میں استحکام کی ضمانت

پاکستان پر عالمی جنگوں کے معاشی اثرات: پیٹرولیم سیاست سے قومی سلامتی تک

یونان میں پاکستانیوں کے خلاف کارروائی: جعلی ویزا نیٹ ورک کا سرگم